ایشیا
3 منٹ پڑھنے
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا جنگ بندی پر متفق ہو گئے
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا نے پانچ روز کی سرحدی لڑائی کے بعد مقامی وقت کے مطابق پیر کی نصف شب سے "فوری" اور "غیر مشروط" جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا جنگ بندی پر متفق ہو گئے
/ AP

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا نے پانچ روز کی سرحدی لڑائی کے بعد مقامی وقت کے مطابق پیر کی نصف شب سے "فوری" اور "غیر مشروط" جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے کوالالمپور میں کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن منیٹ اور تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیر اعظم فومتھم ویچیاچائی کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی کے بعد اس پیش رفت کا اعلان کیا۔

یہ ملاقات گزشتہ ہفتے سرحد پر تازہ ترین مسلح تصادم شروع ہونے کے بعد ہوئی ہے جس کے نتیجے میں متنازع سرحد کے دونوں جانب فوجیوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے فوجی کمانڈر منگل کی صبح ایک سرکاری اجلاس منعقد کریں گے۔  امریکہ اور چین کے حکام نے بھی پیر کے اجلاس میں شرکت کی۔ 

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے موجودہ چیئرمین انور نے کہا کہ جنگ بندی کشیدگی میں کمی اور امن و سلامتی کی بحالی کی جانب ایک اہم پہلا قدم ہوگا۔

انور نے کہا کہ کمبوڈیا، تھائی لینڈ اور ملائیشیا کے وزرائے دفاع اور وزرائے خارجہ "پائیدار امن اور احتساب" کے لئے جنگ بندی کے نفاذ اور تصدیق کے لئے ایک میکانزم تیار کریں گے۔ 

انہوں نے زور دے کر کہا، "یہ میکانزم پائیدار امن اور احتساب کی بنیاد کے طور پر کام کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملائشیا جنگ بندی کی تصدیق اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے ایک مبصر ٹیم کو مربوط کرنے کے لئے تیار ہے۔ 

'مشترکہ عزم'

انور نے کہا کہ ملائیشیا آسیان کے اپنے رکن ممالک سے مشاورت کرے گا تاکہ وہ زمینی امن کی حمایت کا حصہ بن سکیں۔ 

وزیر اعظم کے درمیان براہ راست بات چیت پر اتفاق کرنے کے علاوہ ، انور نے کہا کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا 4 اگست کو جنرل بارڈر کمیٹی کا اجلاس طلب کریں گے ، جس کی میزبانی نوم پین کریں گے۔ 

انور نے کہا کہ کوالالمپور اجلاس نے ملائیشیا، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے "مشترکہ عزم" کا اعادہ کیا کہ وہ "صورتحال کے منصفانہ اور دیرپا حل کی تلاش میں بین الاقوامی قانون، پرامن بقائے باہمی اور کثیر الجہتی تعاون کے اصولوں کو برقرار رکھیں گے۔" 

جنوب مشرقی ایشیائی ہمسایہ ممالک کا کمبوڈیا کے پریاہ ویہر صوبے اور تھائی لینڈ کے شمال مشرقی صوبے اوبون رتچتھانی کے ساتھ سرحدی تنازعہ ہے، جس میں 28 مئی کو کمبوڈیا کے ایک فوجی کی ہلاکت کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ 

 

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے تعلقات میں حالیہ ہفتوں کے دوران تناؤ دیکھا گیا ہے اور گزشتہ جمعرات سے سرحد پار فضائی حملوں اور راکٹ حملوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس میں فوجیوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سرحد کے دونوں جانب جھڑپوں کی وجہ سے لاکھوں  افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

دریافت کیجیے
روس: ہم نے یوکرین میں ایک بندرگاہ اور سفر کرنے والے کارگو جہاز کو نشانہ بنایا ہے
ترک خاتون اول امینہ ایردوان نے امام بخاری کے مزار پر حاضری دی
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
اسرائیلی فوج نے گولی مار کر2 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا
الہان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
بھارت: مودی۔ٹسک ملاقات، دفاع، خلاء اور ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون پر اتفاق
امریکہ اسرائیل کو بموں کی فراہمی بند کرے: ڈیلیا رامیریز
ملائیشیا: ہم، آسیان سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنائیں گے
امریکہ اور اسرائیل  ایران پر حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں
پاک-ترک سعودی دفاعی معاہدہ،بل ترک پارلیمان میں پیش کردیاگیا
ہم روس کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہیں:زیلسنکی
صدر ایردوان کا شام  اور ترکیہ کی خفیہ سروس کے کارکنان کے لیے تہنیتی پیغام
ایلون مسک نے اسپیس ایکس اور ٹیسلا کو یکجا کرنے کی حمایت کر دی
امریکی تجاویز اچھی ہیں مگر سیاسی رعائیتیں ملنا مشکل ہو گا:روس
اسرائیل نے غزہ میں 2 بچوں سمیت 7فلسطینی قتل کر دیئے