پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں ایک پولیس تھانے پر بم سے مسلّح گاڑیوں سے کئے گئے پہلے حملے اور بعد ازاں مدد کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے پولیس اہلکاروں پر دوسرے حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
جائے وقوعہ کی تصاویر میں پولیس تھانہ تباہ شدہ حالت میں دِکھائی دے رہا تھا۔
پولیس افسر سجاد خان نے اتوار کے روز اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ منہدم ہونے والی تھانے کی عمارت سے 12 پولیس اہلکاروں کی لاشیں نکالی گئی ہیں اور تین اہلکاروں کو زندہ حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ایک پولیس اہلکارنے کہا ہے کہ عسکریت پسند پہلے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے تھانے کی عمارت میں داخل ہوئے، پھر اندر گھس کر باقی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی۔
پولیس اہلکار نے کہا ہے کہ "دیگر تھانوں کی پولیس کو مدد کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن دہشت گردوں نے گھات لگا کر ان پر بھی حملہ کیا جس کے نتیجے میں مزید جانی نقصان ہوا ہے"۔
پولیس ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں نے حملے میں ڈرونوں کا بھی استعمال کیا ہے۔
شدید ترین جھڑپیں
ریسکیو اداروں اور سرکاری اسپتالوں کی ایمبولینسیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور حکام نے بنّوں کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر نے کا اعلان کیا ہے۔
اتحاد المجاہدین نامی ایک عسکریت پسند اتحاد نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
یہ عسکری حملے پاکستان۔ افغانستان سرحد پر کشیدگی کو دوبارہ ہوا دے سکتے ہیں۔ فروری میں، سابقہ اتحادیوں کے دشمن بننے کے بعد حالیہ برسوں کی شدید ترین جھڑپیں ہوئیں۔ اسلام آباد نے کہا تھا کہ افغانستان کے اندر کیے گئے فضائی حملوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بعدازاں جھڑپوں میں کمی آئی ہے۔ سرحدی علاقوں میں کبھی کبھار فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے، لیکن کوئی باضابطہ جنگ بندی معاہدہ نہیں ہوا۔
اسلام آباد کا موقف ہے کہ کابل ایسے عسکریت پسندوں کو پناہ دیئے ہوئے ہے جو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لئے افغانستان کی زمین کو استعمال کرتے ہیں۔
تاہم طالبان نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندی ایک داخلی مسئلہ ہے۔














