پاکستان
2 منٹ پڑھنے
باکستان: کار بم دھماکہ اور فائرنگ، بارہ پولیس اہلکار ہلاک
تھانے کی عمارت سے 12 پولیس اہلکاروں کی لاشیں نکالی گئی ہیں اور تین اہلکاروں کو زندہ حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے: سجاد خان
باکستان: کار بم دھماکہ اور فائرنگ، بارہ پولیس اہلکار ہلاک
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں کار بم دھماکے کے بعد ایک تباہ شدہ پولیس چوکی کے ملبے پر جمع مقامی لوگ۔ / Reuters

پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں ایک پولیس تھانے پر بم سے مسلّح  گاڑیوں سے کئے گئے پہلے حملے اور بعد ازاں مدد کے لیے  جائے وقوعہ پر پہنچنے والے پولیس اہلکاروں پر دوسرے حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

جائے وقوعہ کی تصاویر میں پولیس تھانہ تباہ شدہ حالت میں دِکھائی دے رہا تھا۔

پولیس افسر سجاد خان نے اتوار کے روز اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ منہدم ہونے والی تھانے کی عمارت سے 12 پولیس اہلکاروں کی لاشیں نکالی گئی ہیں اور تین اہلکاروں کو زندہ حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ایک پولیس اہلکارنے کہا ہے کہ عسکریت پسند پہلے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے تھانے کی عمارت میں داخل ہوئے، پھر اندر گھس کر باقی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی۔

پولیس اہلکار نے کہا ہے کہ "دیگر تھانوں کی  پولیس کو مدد کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن دہشت گردوں نے گھات لگا کر ان پر  بھی حملہ کیا جس کے نتیجے میں مزید جانی نقصان ہوا ہے"۔

پولیس ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں نے حملے میں ڈرونوں  کا بھی استعمال کیا ہے۔

شدید ترین جھڑپیں

ریسکیو اداروں اور سرکاری اسپتالوں کی ایمبولینسیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور حکام نے بنّوں کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر نے کا اعلان کیا  ہے۔

اتحاد المجاہدین نامی ایک عسکریت پسند اتحاد نے  حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

یہ عسکری حملے پاکستان۔ افغانستان سرحد پر کشیدگی کو دوبارہ  ہوا دے سکتے ہیں۔ فروری میں، سابقہ اتحادیوں کے دشمن بننے کے بعد حالیہ برسوں کی شدید ترین جھڑپیں ہوئیں۔ اسلام آباد نے کہا تھا کہ افغانستان کے اندر کیے گئے فضائی حملوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

بعدازاں جھڑپوں میں کمی آئی ہے۔ سرحدی علاقوں میں کبھی کبھار فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے، لیکن کوئی باضابطہ جنگ بندی معاہدہ نہیں ہوا۔

اسلام آباد کا موقف ہے کہ  کابل ایسے عسکریت پسندوں کو پناہ دیئے ہوئے ہے جو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی  کے لئے افغانستان کی زمین کو استعمال کرتے ہیں۔

تاہم طالبان نے ان الزامات کی تردید کی اور  کہا ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندی ایک داخلی مسئلہ ہے۔

دریافت کیجیے
امید ہے ہم کامیاب ہو جائیں گے: کالاس
ایشیاءتوانائی کے بڑے جھٹکوں کے لئے تیار ہو رہا ہے
سابق تھائی وزیراعظم شیناواترا کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا
جب تک جوہری مواد موجود ہے معاملہ ختم نہیں ہو گا: نیتن یاہو
مشرقی کونگو میں دہشتگردانہ حملے،21 افراد ہلاک
ٹرمپ کو ایران کا جواب پسند نہیں آیا،تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
روس، سلوواکیہ کو توانائی فراہم کرنے کی 'ہر ممکن' کوشش کرے گا: پوتن
اسرائیل نے عراق میں ایک خفیہ فوجی اڈّہ بنا لیا
اسرائیلی وزارتی کمیٹی اوسلو معاہدوں کی منسوخی کے بل پر بحث کرے گی
باکستان: کار بم دھماکہ اور فائرنگ، بارہ پولیس اہلکار ہلاک
چین: جاپان، انڈو-پیسیفک کو بطور پردہ استعمال کر رہا ہے
پوتن: روسی افواج نیٹو کی طرف سے مسلح اور حمایت کردہ ایک حملہ آور طاقت سے نبرد آزما ہے
ترکیہ عالمی دفاعی طاقت کے طور پر اُبھر رہا ہے، صدر ایردوان
اسرائیل نے غزہ میں ایک مکان کو نشانہ بنایا جس دوران 9 افراد زخمی ہو گئے
سعودی عرب کی فوجی آپریشنز میں اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے کی تردید