سیاست
2 منٹ پڑھنے
ٹرمپ: امریکی طیارے کو گرائے جانے سے ایران مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے
میڈیا آؤٹ لیٹ کے ساتھ ایک مختصر فون انٹرویو میں، ٹرمپ نے واقعے کے بعد جاری تلاش و ریسکیو آپریشن کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور اسے ایک حساس فوجی معاملہ قرار دیا۔
ٹرمپ: امریکی طیارے کو گرائے جانے سے ایران مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے
جب پوچھا گیا کہ کیا یہ پیش رفتیں ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں کو متاثر کریں گی، تو ٹرمپ نے اس خیال کو مسترد کر دیا۔ (فائل) / Reuters

این بی سی  نیوز کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایک امریکی لڑاکا جیٹ کے مار گرائے جانے کا واقعہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو متاثر نہیں کرے گا۔

میڈیا آؤٹ لیٹ کے ساتھ ایک مختصر فون انٹرویو میں، ٹرمپ نے واقعے کے بعد جاری تلاش و ریسکیو آپریشن کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور اسے ایک حساس فوجی معاملہ قرار دیا۔

NBCنیوز کے مطابق، صدر نے اس صورتحال کی میڈیا کوریج پر مایوسی کا اظہار کیا، جس میں ہوائی جہاز کے گرائے جانے کے بعد عملے کے ارکان کو تلاش کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔

جب پوچھا گیا کہ آیا یہ پیش رفت ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں کو متاثر کرے گی، ٹرمپ نے اس خیال کو مسترد کر دیا۔

ٹرمپ نے NBC نیوز کے نمائندے کو بتایا کہ"نہیں، بالکل نہیں۔ نہیں، یہ جنگ ہے۔ ہم جنگ کی حالت میں ہیں۔"

48 گھنٹے کی جنگ بندی

اسی دوران، نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نے ایک باخبر ذرائع  کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی۔

ذرائع  نے فارس کو جمعہ کو بتایا، "امریکہ نے 2 اپریل کو ایک دوست ملک کے ذریعے 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی پیشکش کی۔"

یہ پیشکش 'علاقے میں امریکی افواج کو درپیش بڑھتے ہوئے تناؤ اور چیلنجز' کے بعد آئی۔

اخبار کے مطابق ایران نے تحریری جواب نہیں دیا بلکہ ' جنگی میدان میں ' جواب دیتے ہوئے شدید حملے جاری رکھے۔

ذرائع نے یہ بھی کہا کہ خاص طور پر کویت کے بوبیان جزیرے پر ایک امریکی فوجی گودام پر اطلاع شدہ حملے کے بعد 'جنگ بندی روکنے کے لیے امریکی سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں ۔'

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملے کیے، جن میں اب تک 1,340 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اُس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔

ایران نے جواب میں ڈراون اور میزائل حملے کیے جن کا ہدف اسرائیل تھا، نیز امریکی فوجی اثاثے موجود ہونے والے اردن، عراق  اور خلیجی ممالک  پربھی حملے کیے گئے ہیں، جن سے جانی و مالی نقصان ہوا اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جبکہ عالمی منڈیوں اور ہوابازی میں خلل پڑا۔

 

 

 

دریافت کیجیے
ٹرمپ: ہم ایردوان کے ساتھ ایف-35 کے معاملے پر بات کریں گے
ترک وزیر خارجہ فیدان: یورپی سلامتی کو یورپی یونین تک محدود نہیں کیا جا سکتا
فیدان  کے انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل امریکی سینیٹرز سے مذاکرات
یورپ انقرہ میں نیٹو اجلاس کو ٹرمپ کو اجتماعی دفاع میں اپنی دلچسپی دکھانے کا ،مظاہرہ کرے گا: جرمنی
انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل پوتن اور ٹرمپ کی یوکرین کے معاملے پر بات چیت
اسرائیل حکومت اپنی بگڑتی ساکھ کو بچانے کے لیے نئے دشمن کی متلاشی ہے، ترک وزیر خارجہ
روس اور امریکہ پر  عظیم جوہری طاقتیں ہونے کے ناطے عالمی سلامتی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، پوتن
ایردوان اور میلونی نے انقرہ نیٹو سمٹ سے قبل دفاعی روابط پر بات چیت کی
یوکرین سے ایران تک: نیٹو انقرہ سمٹ میں زیر غور آنے والے ممکنہ موضوعات کا جائزہ
نیٹو سیکریٹری جنرل: "ترکیہ میثاق کی سب سے طاقتور افواج میں سے ایک ہے"
امریکہ نے اسرائیل اور لبنان امن  معاہدے کے فریم کی تفصیلات جاری کر دیں
میلونی: ٹرمپ کے تبصروں سے مجھے ' سخت حیرانگی' ہوئی ہے
امریکہ اور ایران نے سوئٹزرلینڈ میں اعلی سطحی مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، ثالث ممالک
وٹکوف اور عراقچی اسرائیل کے لبنان پر قبضے کے دوران سویٹزرلینڈ میں مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں
ممکن ہے کہ نیتن یاہو ٹرمپ کے ایران امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دے: امریکی انٹیلی جنس
امریکہ اور ایران کے درمیان مقرر کردہ مذاکرات میں تاخیر
امریکہ-ایران معاہدے سے متعلق تیکنیکی مسائل تا حال حل نہیں ہوئے: ترک وزیر خارجہ
2022 کا استنبول یوکرین معاہدہ مغربی مداخلت کی وجہ سے بگڑا، روس کا دعوٰی
امریکہ-ایران امن معاہدے کے باوجوداسرائیلی فوج لبنان میں طویل المدت قبضے کی تیاری کر رہی ہے — رپورٹ
لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے 'لازمی شرط' ہے: وزیر خارجہ عراقچی