دنیا
3 منٹ پڑھنے
جنگ کا دوسرا دن: اسرائیل-امریکہ ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ تہران علاقائی بدلہ لے رہا ہے
تہران نے دہائیوں سے چلے آ رہے رہنما علی خامنہ ای کی موت کی تصدیق کی اور مشرق وسطی میں بدلے کی کارروائیاں شروع کر دیں، جس سے دوسرے دن جنگ شدت اختیار کر گئی۔
جنگ کا دوسرا دن: اسرائیل-امریکہ ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ تہران علاقائی بدلہ لے رہا ہے
اسرائیل نے تہران میں فضائی حملوں کی ایک نئی لہر کا دعویٰ کیا ہے، جو فوجی انٹیلی جنس کی رہنمائی میں اہم سرکاری اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ / AFP

ہفتے کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے بعد تہران اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اتوار کی صبح سے، اسرائیل اور متحدہ ریاستِ امریکہ ایرانی اسٹریٹجک اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میںاس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

جاری کشیدگی کے تازہ ترین حالات:

اسرائیلی دفاعی افواج نے اتوار کو تہران پر فضائی حملوں کی ایک نئی لہر کی اطلاع دی، جسے فوجی خفیہ معلومات کی راہنمائی میں انجام دیا گیا اور اس میں اہم سرکاری اور فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں کہا گیا: "آپریشن 'Roaring Lion' کے آغاز کے بعد پہلی باراسرائیلی فوج  ایرانی دہشت گردانتظامیہ کے اہداف کو تہران کے دل میں نشانہ بنا رہا ہے،" یہ بیان مشترکہ حملوں کے ایک دن بعد جاری کیا گیا جن میں امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے سپریم لیڈر مارے گئے۔

"گزشتہ روز کے دوران، اسرائیلی فضائیہ نے فضائی بالا دستی قائم کرنے اور تہران تک راستہ ہموار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر حملے کیے۔"

تہران کے شمالی حصے اور اضلاع جیسے سید خندان، قصر چوراہا، وناک اسکوائر، اور مطہری اسٹریٹ میں دھماکوں کی اطلاعات  ملیں۔

تہران سے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں آزادی ٹاور، اسٹیٹ براڈکاسٹنگ کمپلیکس، ہسپتالوں اور ایرانی ہلالِ احمر کے ہیڈکوارٹرز کے قریب گہرے دھوئیں کے بادل  اور دھماکوں کے مناظر  دکھ رہے ہیں۔

اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو مزید کشیدگی سے خبردار کیا

ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ایران نے دھمکی دی تھی کہ "آج بہت سخت ماریں گے، اتنا سخت جتنا انہوں نے کبھی نہیں مارا۔" اور ہدفِ انتباہ واضح کرتے ہوئے کہا: "وہ بہتر ہوگا کہ ایسا نہ کریں، کیونکہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ہم انہیں ایسی طاقت کے ساتھ ماریں گے جو کبھی دیکھی نہیں گئی۔"

جواباً، ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کی "چھٹی لہر" جاری کی۔

اسرائیل میں عسکری ذرائع نے ایران سے داغے گئے میزائلوں کی شناخت کی اور مرکزی اور جنوبی علاقوں میں خطرے کے سائرن  بج اٹھے، دفاعی نظام متحرک کیے گئے۔ فوج  نے موبائل فونز کے ذریعے احتیاطی انتباہات جاری کیے اور رہائشیوں کو پناہ لینے کی ہدایت دی۔

ایرانی حملوں کا اثر ہمسایہ ممالک پر بھی پڑا۔ دبئی میں دھماکوں اور دھوئیں کی اطلاعات آئیں، جن میں جبل علی بندرگاہ بھی شامل ہے۔ دوحہ، قطر میں کم از کم 16 افراد زخمی ہوئے۔ بحرین نے درجنوں میزائل اور ڈرون تباہ کر دیے، جبکہ عراق نے عربیل ایئرپورٹ کے قریب شدید دھماکوں کی اطلاع دی۔ عمان کی دقم تجارتی بندرگاہ پر ڈرون حملوں نے ایک ورکر کو زخمی کیا اور مسقط میں سیکورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا۔

ایک ایرانی ترجمان نے کہا کہ ہفتے کے روز ایک اسکول پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 108 تک پہنچ گئی ہے، اور امدادی کاموں اور ملبہ ہٹانے کی کارروائیاں تا حال  جاری ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حملے میں متعدد اعلیٰ دفاعی حکام ہلاک ہوئے، جن میں چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی، اسلامی انقلابی گارڈز کے کمانڈر محمد پاکپور، ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی، اور وزیرِ دفاع عزیز ناصرزادہ شامل ہیں۔ شمخانی  نے حال ہی میں امریکہ کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات کی قیادت کی تھی۔

 

دریافت کیجیے
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
مشرق وسطی کے ممالک مسئلہ فلسطین کو  پس پشت نہ ڈالیں:چین
کرغزستان اور پاکستان کا باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں