غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل کا غزہ میں ایمبولینسوں پر حملے کا اعتراف
حماس عہدیدار : اسرائیلی کارروائیاں رفح میں سول ڈیفنس اور فلسطینی ریڈ کریسنٹ ٹیموں کے خلاف "بے رحمانہ، پیش منصوبہ بند قتل عام" تھیں۔
اسرائیل کا غزہ میں ایمبولینسوں پر حملے کا اعتراف
The incident occurred in Rafah, where Israeli troops had launched a recent military offensive. [Photo: AFP] / AFP

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز اعتراف کیا کہ اس نے غزہ میں ایمبولینسوں پر فائرنگ کی کیونکہ انہیں "مشکوک گاڑیاں" سمجھا گیا تھا، جبکہ حماس نے اسے "جنگی جرم" قرار دیا جس میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا۔

یہ واقعہ اتوار کے روز جنوبی شہر رفح کے علاقے تل السلطان میں پیش آیا، جو مصر کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

اسرائیلی فوج نے 20 مارچ کو وہاں ایک حملہ شروع کیا، دو دن بعد جب فوج نے تقریباً دو ماہ کی جنگ بندی کے بعد غزہ پر فضائی بمباری دوبارہ شروع کی۔

فوج نے اے ایف پی کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے "حماس کی گاڑیوں پر فائرنگ کی اور کئی حماس کے دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔"

"چند منٹ بعد، مزید گاڑیاں مشکوک انداز میں فوجیوں کی طرف بڑھیں، جس پر فوجیوں نے مشکوک گاڑیوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں حماس اور اسلامی جہاد کے کئی دہشت گرد ہلاک ہوئے۔"

فوج نے یہ نہیں بتایا کہ آیا گاڑیوں سے فائرنگ کی گئی تھی یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ابتدائی تحقیقات کے بعد یہ طے پایا کہ کچھ مشکوک گاڑیاں، ایمبولینسیں اور فائر ٹرک تھیں۔"

’جان بوجھ کر، بے رحمانہ قتل عام‘

اس واقعے کے اگلے دن، غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ اسے تل السلطان سے تعلق رکھنے والے چھ امدادی کارکنوں کی ٹیم سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، جنہیں ہنگامی طور پر اموات اور زخمیوں کا جواب دینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

جمعہ کے روز، ایجنسی نے اطلاع دی کہ ٹیم کے رہنما کی لاش اور امدادی گاڑیاں  ایک ایمبولینس اور ایک فائر فائٹنگ گاڑی  ملی ہے، فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی ایک گاڑی بھی "لوہے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے۔"

حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اس نے "رفح شہر میں سول ڈیفنس اور فلسطینی ریڈ کریسنٹ ٹیموں کے خلاف جان بوجھ کر اور بے رحمانہ قتل عام کیا۔"

بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت  تحفظ ہونے والے"امدادی کارکنوں کا نشانہ بنانا"  جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے،"

فلسطینیوں کو ’ہسپتال کے بستروں پر قتل کیا گیا‘

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ 18 مارچ سے، "گنجان آباد علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں نے سینکڑوں بچوں اور دیگر شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔"

مریضوں کو ان کے ہسپتال کے بستروں پر قتل کیا گیا۔ ایمبولینسوں پر فائرنگ کی گئی۔

"اگر انسانی قانون کے بنیادی اصول اب بھی اہمیت رکھتے ہیں، تو بین الاقوامی برادری کو ان کی حمایت کے لیے جلد از جلد کاروائی کرنی چاہیے۔

دریافت کیجیے
اسرائیل نے تقریباً 650 مکانات پر مشتمل ایک اور غیر قانونی آبادکاری منصوبے پر کام شروع دیا
نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی یا ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلاء کو مسترد کرتے ہیں: رپورٹ
اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں جولائی میں 2,256 حملے کیے
اسرائیل نے غزہ بھر میں 2 بچوں سمیت کم از کم آٹھ فلسطینی قتل کر دیئے
مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد اور الحاق  کی'صورتحال' بتدریج ابتر ہو رہی ہے، اقوام متحدہ
غزہ میں ایک مسجد کو نشانہ بنا کر شہید کرنے کا اسرائیل کا اعتراف
یورپی یونین کا نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی وارنٹ کے نفاذ کا مطالبہ
اسرائیلی تازہ حملوں میں غزہ میں مزید تین فلسطینی شہید
نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے میں 'وسیع پیمانے پر' فوجی آپریشن کا حکم
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
پیس بورڈ نے غزہ میں انسانی امداد کے مراکز کا انتظام کرنے کے لیے پائلٹ پروجیکٹ شروع کر دیا
اسرائیل نے دہشت گردی کا الزام لگا کر ایک خیراتی تنظیم کو بند کر دیا
اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ میں 8 فلسطینی ہلاک، درجنوں زخمی
اسرائیل عالمی رد عمل کے باعث غزہ سے جبری نقل مکانی کے منصوبے کو نئے سرے سے تشکیل دے رہا ہے
اسرائیل نے 6 لبنانیوں کو ہلاک کر دیا
اسرائیلی فوج نے دو فلسطینیوں کو قتل کر دیا
لبنان کے متعدد علاقوں پر اسرائیلی حملے، 7 افراد ہلاک
غزہ میں تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک
اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تنازع سے ہتھیاروں پر پابندی لگ سکتی ہے — رپورٹ
اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون