تجزیات
5 منٹ پڑھنے
پاکستان میں بار بار آنے والے سیلابوں کی وجوہات پر ایک تجزیہ
"اگر ہم اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید موسم کے خلاف ہمارے ڈھانچے اور فوری ردعمل بہت کمزور ہیں، تو ہمیں اس میں تبدیلی لانی ہوگی۔"
پاکستان میں بار بار آنے والے سیلابوں کی وجوہات پر ایک تجزیہ
A rescue worker rows a raft while searching for survivors who were swept away by overflowing floodwaters in the Swat River / Reuters

پاکستان اور دیگر مقامات پر لاکھوں افراد نے سوات کی خوبصورت وادی میں ایک ہی کنبے کے 13 افراد کو اچانک آنے والے سیلاب  کے ریلے میں بہتے ہوئے خوف کے عالم میں دیکھا۔

ایک لمحے میں مرد، خواتین اور بچے تقریباً خشک دریائے سوات کے کنارے سیلفیاں لے رہے تھے، کہ اچانک ان کے گرد   ایک کار کے  رقبے کے برابر  جزیرہ  بن گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہندوکش پہاڑوں کے گلیشیئرز سے جنم لینے  والے دریائے سوات کا پانی چند منٹوں

ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث 32 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ حکومتی اہلکار اور ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ان علاقوں کا دوبارہ جائزہ لینا ضروری ہے جہاں دریاؤں کے کناروں اور ڈھلوانوں پر تجاوزات کی گئی ہیں۔

پاکستان کی سابق وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات شیری رحمان کہتی ہیں، "اصل بات یہ ہے کہ ایسے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔"

انہوں نے TRT ورلڈ کو بتایا، "اگر ہم اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید موسم کے خلاف ہمارے ڈھانچے اور فوری ردعمل بہت کمزور ہیں، تو ہمیں اس میں تبدیلی لانی ہوگی۔"

شدت میں اضافہ

پاکستان نے 1947 میں آزادی کے بعد سے 29 بڑے سیلابوں کا سامنا کیا ہے، لیکن نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کا کہنا ہے کہ 2010 کے بعد سے شدید سیلاب تقریباً ہر سال کا معمول بن چکا ہے، جو شدت اور تعداد  میں ایک تشویشناک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

2022میں، پاکستان کے کچھ علاقوں میں اوسط سے تقریباً تین گنا زیادہ بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب آیا جس نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی بحران کے اثرات کی وجہ سے بارشیں زیادہ شدید، غیر متوقع اور تیز ہو رہی ہیں۔

گرم درجہ حرارت کا مطلب ہے کہ فضا میں زیادہ نمی جمع ہو سکتی ہے، جو اچانک بادل پھٹنے اور شدید بارشوں کا سبب بنتی ہے۔ ملک کے شمالی پہاڑی علاقے خاص طور پر خطرات سے دوچار ہیں۔

متعلقہTRT Global - Flash floods and heavy rain kill 32 in Pakistan

ایک خطرناک صورتحال

شمالی پاکستان میں 7,000 سے زیادہ گلیشیئرز ہیں، جو قطبی علاقوں کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

لیکن بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کی وجہ سے گلیشیئر جھیلوں  میں طغیانی آنے  خطرات بڑھ رہے ہیں، جو اچانک سیلاب کا سبب بن سکتے ہیں۔

ان علاقوں میں جنگلات کی کٹائی نے مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ درختوں کی کمی کی وجہ سے جو مٹی کو تھام سکتے ہیں اور بارش کے پانی کو جذب کر سکتے ہیں، اچانک بارشیں تباہ کن سیلاب میں تبدیل ہو رہی ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی کی وکیل عافیہ سلام نے TRT ورلڈ کو بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب عام ہو رہے ہیں، جس کی وجہ شدید بارشیں اور پانی کے بہاؤ میں تبدیلیاں ہیں۔

انہوں نے کہا، "بادل پھٹنے یا غیر معمولی شدید بارشیں، جیسے 2010 اور 2020 میں ہوئیں، صورتحال کو مزید بگاڑ دیتی  ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "کشمیر اور بلوچستان کے کچھ حصوں جیسے علاقوں میں، ڈھلوانی زمین کی وجہ سے پانی تیزی سے نیچے کی طرف بہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان واقعات کو اچانک سیلاب کہا جاتا ہے۔ یہ عمل  بہت سے پہاڑی علاقوں میں ہوتا ہے۔"

جب دریاؤں کے کنارے ہوٹلوں یا سڑکوں جیسی تعمیرات سے رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو یہ قدرتی نظامِ آب کو تبدیل کر دیتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ  "یہ پانی کی رفتار اور قوت میں اضافہ کر سکتا ہے، جو نقصان میں اضافہ کرتا ہے۔"

مون سون کی بارشیں، جو پہلے وسط جولائی میں شروع ہوتی تھیں، اب جون کے آخر میں شروع ہو رہی ہیں، اور بارش کی مقدار میں اضافہ ہو گیا ہے۔

یہاں تک کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہری علاقوں میں بھی، درمیانی بارش کے دوران طوفانی پانی کے نالوں پر تجاوزات کی وجہ سے اچانک سیلاب تباہی مچا رہے ہیں۔

پائیدار ترقیاتی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے رکن  عمران خالد کا کہنا ہے کہ جب ہم اچانک سیلاب کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیلاب، پاکستان اور دنیا بھر میں زمینی قدرتی  ساخت  کا  ایک حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا، "اسی طرح، اچانک سیلاب بھی کافی عام ہیں۔ یہ  کرہ ارض کے وجود میں آنے کے بعد سے رونما  ہو رہے ہیں۔"

مثال کے طور پر، اگر پہاڑیوں پر بارش ہو اور پانی نالوں اور چھوٹے راستوں سے نشیبی  علاقوں کو  پہنچتا ہے تو اس کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔

اور اگر باقی پانی اس میں شامل ہو جائے تو اس کی رفتار مزید بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا جب مختصر وقت میں شدید بارش ہو تو یہ پانی کے حجم اور رفتار میں اضافہ کرتی ہے۔

متعلقہHeavy winter rains ravage Pakistan, claiming at least 29 lives

خالد کے مطابق، موسمیاتی بحران اس صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔

خالد کا کہنا ہے کہ پاکستان کو "تیسرا قطب" کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں شمالی اور جنوبی قطبوں کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ گلیشیئرز ہیں۔

انہوں نے کہا، "اسی وجہ سے، اگر گلیشیئرز پگھلنا شروع ہو جائیں تو ہم خطرے میں ہیں۔ اگر وہ پگھلیں اور پانی دریاؤں میں آ جائے، تو اس کا اثر ہم پر  زیادہ نہیں پڑے گا بشرطیکہ ان علاقوں میں آبادی نہ ہو۔

لیکن جو چیز ہمیں یہاں خطرے میں ڈال رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے  شہروں کی کیسے آباد کاری کی ہے  اور ہم کس  طرف   بڑھ  رہے ہیں۔"

دریافت کیجیے
پاکستان: وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر
سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے خونریز دہشت گردانہ حملے کی مذّمت
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
حوثی حملوں میں 58 یمنی فوجی ہلاک، سعودی عرب میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات
اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینیوں پر حملہ،متعدد زخمی
جاپان: ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کی 81 ویں سالانہ یاد
جاپان کی وزیر اعظم کا غیر جوہری اصولوں کو برقرار رکھنے کے واضح وعدے سے گریز
سی آئی اے نے کیوبا کے لیے پوشیدہ ٹاسک فورس تشکیل  دے دی
یکاترینبرگ کے قریب کار دھماکہ، روسی ڈرون بنانے والی کمپنی کے سربراہ شدید زخمی
لبنانی مہاجرین اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں: اقوامِ متحدہ
امریکا نے برازیل کے سفیر کے ویزے کو منسوخ کر دیا
دنیا جاپان سے ہوشیار رہے: شمالی کوریا
ترکیہ قومی خفیہ سروس کے ڈائریکٹر جنرل کی لیبیائی عہدیداروں سے انقرہ میں مذاکرات
روسی میزائل اور ڈراون حملوں میں کیف کے قرب و جوار میں 14 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
فلپائن میں 6.3 کی شدّت کا زلزلہ