دنیا
3 منٹ پڑھنے
معاہدہ ہونے کی صورت میں رہبر اعلی سے ملنا قابل اعزاز ہوگا:ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ ایران کے نئے  رہبر اعلی  مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کو اپنے لیے "باعثِ مسرت"  سمجھیں گے
معاہدہ ہونے کی صورت میں رہبر اعلی سے ملنا قابل اعزاز ہوگا:ٹرمپ
ٹرمپ / Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ ایران کے نئے  رہبر اعلی  مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کو اپنے لیے "باعثِ مسرت"  سمجھیں گے۔

گزشتہ روز  ایرانی رہنما کے ساتھ ممکنہ ملاقات کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ میں خود ملاقات نہیں کرنا چاہتا لیکن اگر میں ملاقات کرتا ہوں، تو ان سے ملنا میرے لیے باعثِ مسرت ہوگا۔

 واضح رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے والد اور سابقہ  رہبر اعلی  علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں یہ دیکھنا چاہوں گا کہ آیا ہمارا کوئی معاہدہ ہوتا ہے، لیکن اگر معاہدہ ہو جاتا ہے، تو یہ ممکن ہے کہ میں ان سے ملاقات کروں۔"

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ملاقات امریکہ میں ہوگی، تو ٹرمپ نے جواب دیا، "میں نے اس بارے میں ابھی زیادہ نہیں سنا۔ میں نے اس کی تجویز نہیں دی، لیکن کچھ لوگوں نے یہ تجویز پیش کی ہے۔"

اس سوال پر کہ اگر تہران خطے میں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرتا ہے تو کیا وہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کر دیں گے، ٹرمپ نے جواب دیا، "یہ ایک ٹھوس وجہ ہوگی۔ میں آپ سے سچ کہوں گا، اگر انہوں نے امریکی فوجیوں کو مارا، تو میرا خیال ہے کہ میں بہت تیزی سے ایسا کروں گا۔"

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے اوول آفس میں نامہ نگاروں کو بتایا، "ہم اسے ابھی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو میرے خیال میں وہ ہمیں روک نہیں سکتے، لیکن اس کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ دفن ہو چکا ہے۔"

ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کرنے میں اسرائیل کا ساتھ دیا تھا، جس کے فضائی حملوں میں طویل عرصے تک رہنے والے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ترین فوجی قیادت فوری طور پر ہلاک ہو گئی تھی۔

لیکن ایران نے فوری طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا، جو کہ ایک ایسی تنگ آبی گزرگاہ ہے جہاں سے کبھی دنیا کا ایک بٹہ پانچ  تیل گزرتا تھا، اور امریکہ کے اتحادی خلیجی عرب ممالک پر میزائلوں اور ڈرونز کی برسات کر دی، جس نے ان تیل سے مالامال ممالک کے امن و استحکام کی ساکھ کو ہلا کر رکھ دیا۔

40 دنوں کی جنگ کے بعد، 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے ایران میں بڑے پیمانے پر امن ہے۔

تاہم، ہفتوں کے مذاکرات طویل مدتی امن معاہدہ لانے میں ناکام رہے ہیں جبکہ تناؤ بدستور برقرار ہے اور کبھی کبھار فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوتا ہے، جیسا کہ اس ہفتے آبنائے ہرمز، کویت اور بحرین میں دیکھا گیا۔

اسرائیل اور امریکہ طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش کا الزام لگاتے رہے ہیں، اور صدر ٹرمپ نے اسی خطرے کو ایران پر حملے کا جواز قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی معاہدے میں ایران کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا اور اس کا یورینیم تلف کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب تہران نے بارہا کسی بھی فوجی عزائم کی تردید کی ہے اور سویلین مقاصد کے لیے اس ٹیکنالوجی کے اپنے حق پر اصرار کیا ہے۔

 

دریافت کیجیے
کراچی کے قریب لاپتہ ہونے والے بوئنگ کارگو طیارے کی تلاش جاری
ایردوان نے نیٹو اتحادیوں میں دفاعی تعاون پر پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا
نیٹو رہنما سمٹ کے آخری دن آرکٹک، ایران اور یوکرین کے معاملات پر توجہ دیں گے
یورپی یونین اور نیٹو کی طرف سے"اتحاد" کا پیغام
ایران کی طرف سے اسلام آباد فائر بندی مفاہمتِ یادداشت کی خلاف ورزی پر امریکہ کی مذمت
امریکہ  نے ایران پر تازہ حملوں کی لہر شروع کر دی
ترکیہ طویل فاصلے کے کروز میزائل 'آتماجا' فراہم کرے گا: نیٹو نائب سربراہ
صدر ایردوان کا نیٹو سمٹ کے آغاز پر انقرہ میں ٹرمپ کا خیرمقدم
دنیا بھر کی نظریں انقرہ پر مرکوز
نیٹو کا ترکیہ کو بھی  شامل کرتے ہوئے عظیم سطح کے بین الاقوامی دفاعی منصوبوں کا اعلان
نیٹو انقرہ سمٹ دفاعی صنعتی فورم کے انعقاد سے شروع
چین میں طوفانوں سے کم ازکم 15افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی
ایران نے آبنائے ہر،مز میں تجارتی بحری جہازوں پر میزائل داغے: رپورٹ
روٹے نے شاندار طریقے سے نیٹو سربراہی اجلاس کی میزبانی پر صدر ایردوان کا شکریہ ادا کیا
تہران میں خامنہ ای کی رسمِ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی