پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف ہفتے کو چین کے چار روزہ دورے کے لیے روانہ ہوئے، بتایا گیا ہے اس دورے کا مقصد حکمتِ عملی میں ہم آہنگی کو مضبوط کرنا ہے۔
وزیراعظم ہاوس کے بیان کے مطابق اسلام آباد امریکہ۔ایران جنگ ختم کرنے کے لیے بلواسطہ بات چیت کی خدمات جاری رکھے ہوئے ہے۔
شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحق ڈار اور کابینہ کے دیگر اراکین اور حکام بھی ہیں۔
شریف اپنا دورہ ژیجیانگ صوبے کے شہر ہانگژو سے شروع کریں گے، جہاں وہ آئی ٹی و ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) اور زراعت کے موضوع پر پاکستان-چین B2B سرمایہ کاری کانفرنس کی صدارت کریں گے۔
بعد ازاں وہ بیجنگ روانہ ہوں گے جہاں وہ چینی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جن میں صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم لی چیانگ شامل ہیں۔
شی کی طرف سے شہباز شریف کی میزبانی کرنا اس ماہ بیجنگ کی جانب سے اعلیٰ سطحی غیر ملکی رہنماؤں کی میزبانی کے پس منظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
گزشتہ دو ہفتوں میں امریکی اور روسی صدور نے شی سے ملاقاتیں کیں، جب کہ اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان نے 8 اپریل کو جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کیا، جس نے اس جنگ کو روک دیا۔ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر عسکری حملے شروع کیے جانے کے بعد سے حملوں میں 3,300 سے زیادہ افراد ہلاک اور ایران کے اندر ہزاروں بے گھر ہوئے۔
دورے کے دوران، پاکستانی وزیر اعظم دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، "اس دورے سے سیاسی اعتماد مزید گہرا ہونے، حکمتِ عملی میں ہم آہنگی مضبوط کرنے، عملی تعاون کے دائرے کے وسیع ہونے اور پاکستان اور چین کے طویل المدتی دوستی کو مستحکم کرنے کی توقع ہے۔"












