یوکرین نے، ایک تاریخی خانقاہ سمیت ملک بھر میں بھاری روسی حملوں کے بعد، اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل سے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے ۔
کیف نے بروز پیر جاری کردہ بیان میں کہا ہےکہ ان حملوں نے، یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل اور یوکرین کے اہم ترین مذہبی و ثقافتی مقامات میں سے ایک ' پیچیرسک لاورا خانقاہ'کے اندر، ڈورمیشن کیتھیڈرل کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔
یوکرین کے وزیرِ خارجہ' اندری سیبیہا 'نے یورپی سلامتی و تعاون تنظیم (OSCE)، کونسل آف یورپ اور یونیسکو کے ذریعے بھی جوابی اقدامات شروع کئے ہیں۔
سیبیہا کے مطابق حملے میں کیف، خارکیف، ڈنیپرو اور دیگر شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حملے شہری اور ہنگامی امدادی کارکنوں کی ہلاکتوں اور بچوں کے زخمی ہونے کا سبب بنے ہیں۔
ایکس سے جاری کردہ بیان میں سیبیہا نے کہا ہے کہ" روس،ہمارے لوگوں، ہمارے شہروں اور ہمارے ثقافتی و مذہبی ورثے پر حملہ کر کے بین الاقوامی قانون کی اور اُن اصولوں کی کھلی توہین کر رہا ہے جن کے دفاع کے لیے اقوامِ متحدہ قائم کی گئی تھی" ۔
یوکرین نے مضبوط بین الاقوامی ردِ عمل کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ ماسکو پر دباؤ میں اضافہ ضروری ہے۔
الزام تراشی
اس سے قبل، ماسکو اور کیف نے رات بھر کے بھاری میزائل اور ڈرون حملوں کے الزامات کا تبادلہ کیا اور دونوں فریقوں نے بنیادی ڈھانچے اور شہری علاقوں کو پہنچنے والے نقصانات کی اطلاع دی تھی۔
یوکرینی حکام نے کہا تھا کہ کم از کم 5 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے ہیں۔
یوکرین کے الزامات کے جواب میں روس وزارتِ دفاع نے اتوار کی رات اُن اہداف کی فہرست شائع کی جن پر اس نے حملے کئے تھے۔
وزارتِ دفاع نےکیف‑پیچرسک لاورا کو پہنچنے والے نقصان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ یہ نقصان یوکرین کے فضائی دفاعی نظاموں سے فائر کیے گئے ایک پیٹریاٹ میزائل کی وجہ سے ہوا ہے۔











