پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرحد کے نزدیک خیبر پختونخواہ صوبے میں 15 عسکریت پسند بے اثر کر دیے گئے ہیں۔
پاکستانی مسلح افواج کے میڈیا و امور تعلقات ِ عامہ نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخواہ کے شمالی وزیرستان علاقے میں ایک عسکری کارروائی کی۔
بیان میں کہا گیا کہ 36 گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے نتیجے میں بھارتی حمایت یافتہ 15 عسکریت پسند بے اثر کیے گئے اور ہتھیار اور گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا۔
پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ
پاکستان میں مسلح حملے خصوصاً افغانستان سے ملحقہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان صوبوں میں مرکوز ہیں۔
دونوں صوبوں میں پشتون اور بلوچ نسلی گروہوں کے حقوق کا دفاع کرنے کا دعویٰ کرنے والی مسلح تنظیمیں سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے کرتی ہیں۔
اسلام آباد کا موقف ہے کہ کالعدم پاکستان تحریکِ طالبان افغانستان میں ٹھکانے بنائے ہوئے ہے اور وہیں سے حملے منظم کرتی ہے، جبکہ افغان انتظامیہ ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے حملے نمایاں ہیں۔ BLA بلوچستان کے پاکستان سے علیحدگی اور بلوچوں کے اس علاقے پر خود حکومت کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔





















