دنیا
3 منٹ پڑھنے
نیپال میں 2025 کی بغاوت کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات
رائے دہندگان  نے پارلیمنٹ کے زیریں ایوان، ایوانِ نمائندگان کے لیے  براہِ راست 165 اراکین کے چناو کے لیے پولنگ میں حصہ لیا۔
نیپال میں 2025 کی بغاوت کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات
کھٹمنڈو، نیپال میں ووٹوں کی گنتی شروع ہونے پر الیکشن کمیشن کا ایک اہلکار ایک ڈبے سے بیلٹ پیپرز انڈیل رہا ہے۔ 6 مارچ 2026۔ / Reuters
20 گھنٹے قبل

 نیپال میں پارلیمانی انتخابات کہ جنہیں ستمبر میں سابق حکومت کو برطرف کرنے والی جنریشن زی کی قیادت میں اٹھنے والی بغاوت کے بعد پہلے قومی انتخابات  قرار دیا جا رہا تھا،  میں پڑنے والے ووٹوں کی گنتی کا کام جاری ہے۔

الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ اس نے  جمعہ کی صبح تک 165 حلقوں میں سے 53 حلقوں میں ووٹ گننا شروع کر دیے ہیں ، اور توقع ہے کہ دن کے اختتام تک باقی علاقوں میں بھی گنتی شروع کر دی جائے گی۔

کچھ پولنگ اسٹیشن دوردراز پہاڑی دیہاتوں میں واقع ہیں جہاں تک پہنچنے کے لیے کئی دنوں تک پیدل چلنا پڑتا ہے ، جس کی وجہ سے حکام نے بیلٹ باکسز کو گنتی مراکز تک پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر کا انتظام کیا ہے۔

الیکشن حکام کے مطابق نتائج اختتام الہفتہ  تک متوقع ہیں اور انہوں نے پولنگ میں ٹرن آؤٹ تقریباً 60 فیصد  ہونے کا تخمینہ لگایا ہے۔

رائے دہندگان  نے پارلیمنٹ کے زیریں ایوان، ایوانِ نمائندگان کے لیے  براہِ راست 165 اراکین کے چناو کے لیے پولنگ میں حصہ لیا۔ 275 رکنی ایوان کی باقی 110 سیٹیں تناسبی نمائندگی کے نظام کے تحت الاٹ ہوں گی، جس میں سیاسی جماعتیں ووٹوں کے تناسب کے مطابق نمائندے نامزد کرتی ہیں۔

دارالحکومت کٹھمنڈو میں حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور اپنے امیدواروں کے حق میں نعرے لگائے۔

یہ انتخابات وسیع پیمانے پر ایک تین طرفہ مقابلے کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، جس کاتعین رائے دہندگان  کی بدعنوانی کے خلاف ناراضگی اور حکومت سے زیادہ جوابدہی کے مطالبات نے کیاہے۔

2022 میں قائم ہونے والی نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی کو سبقت  حاصل کرنے کی توقع ہے  اور یہ دو قدیم غلبہ رکھنے والی جماعتوں — نیپالی کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کے لیے ایک ایک بڑا مضبوط چیلنج بھی  ہے۔

نئی جماعت کے وزیرِ اعظم کے امیدوار ریپر سے سیاستدان بننے والے بالیندرا شاہ ہیں، جنہوں نے 2022 میں کٹھمنڈو کے میئر کا انتخاب جیتا تھا اور 2025 کی بغاوت میں ایک نمایاں شخصیت کے طور پر سامنے آئے تھے جس نے سابق وزیرِ اعظم کھڈگا پرساد اولی کو اقتدار سے اتارا۔

35سالہ شاہ، جو روایتی سیاسی جماعتوں کے خلاف عوامی غصے کی لہر پر سوار ہیں، نے اپنی مہم میں غریب نیپالیوں کے لیے صحت اور تعلیم کو اہم توجہ کے طور پر اجاگر کیا۔

بدعنوانی اور ناقص حکمرانی کے خلاف 2025 کے احتجاجات ایک سوشل میڈیا پابندی کے باعث بھڑکے، اور پھر وہ حکومت کے خلاف ایک عوامی بغاوت میں تبدیل ہوگئے۔ جب مظاہرین نے حکومتی عمارات پر حملے کیے اور پولیس نے فائرنگ کی تو درجنوں ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

جبکہ کانگریس اور کمیونسٹس کے اپنے وفادار ووٹر بیس موجود ہیں، شاہ کی پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران بڑے  بڑے جلسے کیے، جو خاص طور پر نوجوان ووٹروں کے درمیان ایک متبادل کی حیثیت سے اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو اجاگر کرتا ہے۔