نیپال نے آج پولنگ سینٹر قائم کر دیے ہیں ۔
یہ 2006 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے ہونے والے سب سے زیادہ متنازعہ انتخابات میں سے ایک ہیں اور یہ بدعنوانی کے خلاف مہلک احتجاجات کے چھ ماہ بعد ہو رہے ہیں جنہوں نے حکومت کا تختہ الٹا تھا۔
نیپال جمعرات کو نئی پارلیمان منتخب کرے گا، جو عارضی حکومت کی جگہ لے گی جو ستمبر 2025 کی بغاوت کے بعد سے 30 ملین لوگوں کے اس ملک کی قیادت کر رہی تھی،جس میں کم از کم 77 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
راجدھانی کٹھمنڈو کے ڈربر اسکوائر جو پاگودا مندر اور قرون وسطیٰ کی شان و شوکت سے مزین ایک اقوامِ متحدہ کے عالمی ثقافتی ورثے کا مقام ہے وہاں انتخابی اہلکار انتخابی بوتھ لگا رہے تھے جو جمعرات کی صبح سویرے کھلیں گے۔
عبوری وزیرِ اعظم سوشیلا کارکی نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ 'بغیر کسی خوف کے' ووٹ ڈالیں۔
ہیلی کاپٹرز نے ووٹرز کا سامان برف سے ڈھکے پہاڑی علاقوں تک پہنچایا ہے، جہاں، بشمول ماؤنٹ ایورسٹ دنیا کی 10 بلند چوٹیوں میں سے آٹھ واقع ہیں ۔
لیکن اس بار توجہ راجدھانی کے جنوبی گرم زرعی میدانوں کی طرف منتقل ہو گئی ہے، جہاں تین امیدوار نشستیں لڑ رہے ہیں ۔
اس میں عام طور پر پرسکون مشرقی شہر جھاپا بھی شامل ہے، جہاں دو اہم حریفوں کے درمیان براہِ راست مقابلہ ہو رہا ہے۔
کے پی شرما اولی، 74 سالہ مارکسی رہنما جو پچھلے سال وزیرِ اعظم کے عہدے سے ہٹائے گئے تھے اور دوبارہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں، اپنے ہی حلقے میں سابق کٹھمنڈو میئر بلندرا شاہ کی طرف سے چیلنج کیے جا رہے ہیں، جو 35 سالہ ریپر سے سیاستدان بنے ہیں۔
جبکہ پورے ملک میں تقریباً 19 ملین ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
شاہ، جو مرکزیت پسند 'راشٹریہ ِ سوتنترا پارٹی' (RSP) سے ہیں جنہوں نے خود کو نوجوانوں کے زیرِ اثر سیاسی تبدیلی کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے اور ووٹرز کو پارٹی کے نشان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تبدیلی کی 'گھنٹی بجانے' کی ترغیب دی ہے۔
جھاپا کے چیف الیکشن آفیسر بیدُر کمار کرکی نے کہا کہ یہ مقابلہ مقبول امیدواروں کے درمیان ہے اور کہا کہ پولیس اور فوج دونوں تعینات کی گئی ہیں۔
'ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ جگہ محفوظ ہے اور کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، میں تمام ووٹرز سے درخواست کروں گا کہ وہ فعال طور پر ووٹنگ میں حصہ لیں۔
جھاپا میں پولیس بدھ کے روز ووٹرز کو ہدایت دینے کے لیے باڑیں لگا رہی تھی تاکہ پولنگ کھلنے پر سمت متعین کی جا سکے۔
اس دوڑ میں 49 سالہ گاگن ٹھپا بھی شامل ہیں، جو ملک کی سب سے قدیم جماعت نیپالی کانگریس کے نئے سربراہ ہیں اور جن کا کہنا ہے کہ وہ گردش کرتے ہوئے سینئر رہنماؤں کے 'بزرگوں کے کلب' کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔
ٹھپا سرلاہی حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں، جو بنیادی طور پر زراعی ضلع ہے اور بھارت کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔
نیپال کی نصف سے زیادہ آبادی ملک کے جنوبی مادیش ضلع کے دیہی میدانوں میں رہتی ہے، ان سرسبز چراگاہوں میں جو ہمالیائی برف کے پگھلنے سے پانی پاتی ہیں۔










