بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کے دورے کے دوران باہمی تعلقات کو بلند مقام پر پہنچایا اور تجارت، ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، دفاع اور اہم ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے 17 معاہدوں پر دستخط کیے اور آزاد تجارتی معاہدے کی طرف کام کرنے پر متفق ہوئے۔
تاہم، کچھ بھارتی میڈیا کی قیاس آرائیوں کے برخلاف دورے کے دوران دستخط کیے جانے والے کسی بھی معاہدے میں اسرائیل کے آئرن ڈوم یا آئرن بیم میزائل دفاعی نظام کی منتقلی شامل نہیں تھی۔
اگرچہ رپورٹس نے تجویز کیا کہ نئی دہلی اور تل ابیب کے درمیان مذاکرات وسیع تر دفاعی ٹیکنالوجی کے تعاون بشمول جدید فضائی دفاعی نظاموں پر غور کر سکتے ہیں ۔
امریکی فنڈنگ اور ان نظاموں میں امریکی پرزوں کی مداخلت کی وجہ سے اسرائیل آئرن ڈوم یا آئرن بیم ٹیکنالوجی کو بغیر امریکی منظوری کے آزادانہ طور پر برآمد یا منتقل نہیں کر سکتا۔
اس کے بجائے دورے کے دوران طے پانے والے دفاعی تعاون کے نتائج نے مشترکہ ترقی، پیداوار، اور وسیع تر شعبوں میں ٹیکنالوجی شیئرنگ کے فریم ورکس پر زور دیا۔
مودی کے دورہ اسرائیل پر بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے سخت تنقید کی، اسے بھارت کی تاریخی خارجہ پالیسی کے اصولوں کی خیانت قرار دیا ہے ۔
معاہدوں کے مطابق، اگلے پانچ سالوں کے دوران اسرائیل بھارت کے 50,000 اضافی مزدوروں کو خاص طور پر مینوفیکچرنگ شعبوں میں ملک میں آنے کی اجازت دے گا۔
مودی کے دور میں بھارت-اسرائیل تعلقات مضبوط ہوئے ہیں جو بھارت کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کی طرف بڑے تغیر کا اشارہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق، بھارتی کمپنیوں نے غزہ میں نسل کشی کے دوران اسرائیل کو ہتھیار اور دیگر گولہ بارود سے متعلق اشیاء برآمد کی تھیں۔۔








