وینیزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریز نے امریکی افواج کی جانب سے گرفتار ہونے کے بعد پہلی بار عوام کو مخاطب کیا اور حراستی مرکز سے جاری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ ہم "ثابت قدم" اور "پُر متانت" ہیں۔
فوجداری مقدمے کے لئے جنوری کے ڈرامائی چھاپے کے ساتھ کاراکاس سے امریکہ لانے جانے کے بعد تقریباً تین ماہ سے بروکلین کی ایک وفاقی جیل میں بند جوڑے نے کہا ہے کہ"ہم، اپنے حامیوں سے حوصلہ حاصل کر رہے ہیں"۔
سوشل میڈیا صفحے سے جاری کردہ پیغام میں مادورو نے کہا ہے کہ "ہم خیریت سے ہیں، ثابت قدم اور پُرسکون ہیں اور مسلسل دعاکر رہے ہیں"۔
یہ پیغام مادورو کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کس نے شیئر کیا ہے۔
بروکلین کے حراستی مرکز میں زندگی
اطلاعات کے مطابق اغوا کے بعد سے مادورو اور فلوریز کو براہِ راست انٹرنیٹ یا خبروں تک رسائی نہیں ملی اور وہ مختصر فون کالوں کے ذریعے اپنے اہلِ خانہ اور وکلاء سے رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔
وینیزویلا حکومت کے ایک قریبی ذریعے کا کہنا ہے کہ مادورو بائبل پڑھ کر وقت گزارتے ہیں اور حراستی مرکز کے بعض قیدی انہیں ابھی بھی "صدر" کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔
ان کے بیٹے، نکولس مادورو گیریا، نے رائے عامہ کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ موجودہ شرائط کے باوجود ان کے والد پرسکون اور جسمانی طور پر متحرک رہتے ہیں۔
قانونی جنگ اور سیاسی نتائج
مادورو نے خود کو "جنگی قیدی" قرار دیا اور منشیات، دہشتگردی، سازش اور منشیات کی اسمگلنگ سمیت متعدد الزامات کے خلاف بے گناہی کا دعویٰ کیا ہے۔
جنوری کی اغوا کارروائی نے ان کے دس سال سے زیادہ طویل اقتدار کا خاتمہ کر دیا اور وینیزویلا کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ وینزویلا کی سابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز ملک کی قیادت کر رہی ہیں۔
روڈریگیز نے تب سے ، سیاسی قیدیوں کے لیے معافی اور تیل کے شعبے میں اصلاحات سمیت، وسیع نوعیت کی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں ۔ کاراکاس ایک نازک عبوری مرحلے سے گزر رہا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کی ازسرِنو بحالی ہو رہی ہے۔
حامیوں کے لیے پیغام
اپنے بیان میں مادورو اور فلوریز نے "ثابت قدمی"کو اپنے حامیوں کی نمایاں خصوصیت قرار دیا اس کی ستائش کی اور وینیزویلا کے اندر اور باہر ان کے ساتھ یکجہتی دکھانے والوں کے لیے 'جذباتِ تحسین و ستائش' کا اظہار کیا ہے۔






