یورپی یونین کا امریکہ اور چین پر دارو مدار کو کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پیکیج کا مسودہ
برسلز نے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ اور چپس پر مشتمل ایک ڈیجیٹل خودمختاری پیکیج کا مسودہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد مقامی تیاری کو فروغ دینا اور غیر ملکی انحصار کی سطحوں کو کم کرنا ہے۔
یورپی یونین کا امریکہ اور چین پر دارو مدار کو کم کرنے کے لیے  ٹیکنالوجی پیکیج کا مسودہ
حکام نے اہم نظاموں میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر تزویراتی انحصار سے خبردار کیا ہے۔ [فائل فوٹو] / Reuters

غیر ملکی حکومتوں کی من مرضی کے تابع ہونے کے خدشے سے محتاط، یورپی یونین امریکی ڈیجیٹل کمپنیوں اور چینی چِپس کو چھوڑ کر یورپی متبادلات کی طرف جانے کے لیے دور رس اقدامات کی تیاری کر رہی ہے۔

یورپی یونین کا تکنیکی خودمختاری پیکج برسلز کی جانب سے غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار کم کرنے اور مقامی صنعت کو فروغ دینے کے لیے کیے جانے والے کئی اقدامات میں سے ہے - مگر اس کے باعث ٹرانس اٹلانٹک کشیدگی کے ایک نئے محاذ کھلنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

اے ایف پی کے مطابق ایک مسودہ حکمتِ عملی دستاویز میں کہا گیا ہے  کہ یہ  مجوزہ پیکیج جس میں چِپس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے نئے قواعد شامل ہیں، بدھ کے روز پیش کیا جائے گا اور یہ یورپی یونین کی 'جیو اکنامک طاقت کے عالمی مقابلے میں اپنی جگہ واپس حاصل کرنے' کی کوشش کا حصہ ہے۔

خاص طور پر تشویش اس بات کی ہے کہ یورپ امریکی کلاؤڈ فراہم کنندگان پر کتنا انحصار کرتا ہے، جو یورپ کی مارکیٹ کا تقریباً 70 فیصد بنتے ہیں۔

جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ سال وائٹ ہاؤس واپس آئے، یورپی خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر کشیدگی عروج پر پہنچی تو امریکی 'مین-سوئچ' کے ذریعے اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بند کیا جا سکتا ہے۔

یورپی عہدیدار براہِ راست اپنے ہدف کا نام امریکہ نہیں لیتے، مگر امریکی ٹیکنالوجی کلاؤڈ کمپیوٹنگ سے لے کر سوشل میڈیا اور ای-کامرس تک ہر جگہ حاوی ہے۔

یورپی مقابلہ جاتی امور کی سربراہ ٹیریسا ریبیرا نے اس ماہ کہا تھا کہ"ہمیں اپنی صلاحیتیں خود تیار کرنی ہوں گی۔ ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ہمارے فیصلوں، ہماری اقدار، یا ہماری بہ خوبی چلنے والی معیشت اور خدمات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے۔''

یورپی عہدیدار اکثر واشنگٹن کی طرف اس نتیجے کو اجاگر کرنے کے لیے اشارہ کرتے ہیں کہ ٹرمپ کی طرف سے فروری 2025 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ججوں پر عائد کی گئی پابندیاں امریکی کمپنیوں کے اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جج نیکولس گِیو نے بتایا ہے کہ ویزا کارڈ تک اس کی رسائی ختم ہو گئی کیونکہ یہ ایک امریکی نظام ہے۔

تاہم امریکہ کے یورپی یونین میں سفیر  اینڈریو پوزڈر نے کسی بھی حفاظتی یا پروٹیکشنسٹ اقدام کے خلاف خبردار کیا ہے، اور امریکی کمپنیوں نے یورپ سے درخواست کی ہے کہ انہیں باہر نہ رکھا جائے۔ 'یورپ دوسرے لوگوں کو نیچا دکھا کر خود کو مصنوعی ذہانت کی معیشت میں داخل نہیں کر سکے گا۔

وسیع پیکیج

بدھ کے پیکیج میں کلاؤڈ اور AI ڈیولپمنٹ ایکٹ شامل ہوگا جس کا مقصد ڈیٹا سینٹرز کے انفراسٹرکچر کی تنصیبات کو تیز کرنا ہے،  یہ   چپس ایکٹ کی  ایک تجویز  ہے جو غیر ملکی فراہم کنندگان پر انحصار کم کر کے سیمی کنڈکٹر سپلائی کی حفاظت کو مضبوط کرے گی، اور عوامی حکام کو زیادہ اوپن سورس سافٹ ویئر اپنانے کی ترویج تاکہ کنٹرول، لچک میں اضافہ ہو اور وینڈر لاک اِن سے بچا جا سکے۔

یورپی قانون ساز اولیور شینک نے AFP کو بتایا کہ یہ پیکیج 'ہمارے تجارتی شریکوں کی مخالفت یا بازاروں کو بند کرنے کے بارے میں نہیں' ہے، مگر انہوں نے کہا: 'یورپ کو AI، کلاؤڈ اور چِپس کے معاملے میں کسی ایک بیرونی فریق پر ساختی طور پر انحصار کرنے  سے  نجات پانی چاہیے۔'

شینک نے کہا کہ مسودہ حکمتِ عملی، جو اعلان سے پہلے تبدیل ہو سکتی ہے، کہتی ہے کہ حکومتوں سے توقع کی جائے گی کہ وہ کلاؤڈ اور AI کے لیے 'خودمختاری کے خطرے کا جائزہ' کریں گے تاکہ 'مزید مضبوطی' پیدا ہو اور یورپی متبادلات کی نشاندہی ممکن ہو سکے۔ 'یورپ کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کے انفراسٹرکچر میں عوامی سرمایہ کاری یورپی جدت کی صلاحیت، مضبوطی اور سکیورٹی کو مضبوط کرے۔'

چِپس کے بارے میں ایک دوسرے مسودہ دستاویز کے مطابق، کمیشن بحران کی صورت میں مداخلت کرنے کا اختیار چاہتا ہے تاکہ 'مینوفیکچررز کو بحران سے متعلقہ اہم مصنوعات کے آرڈرز کو ترجیح دینے پر مجبور کیا جا سکے۔ یہ مشترکہ خریداری کی تجویز بھی پیش کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یورپی یونین 'ان متعدد رکن ممالک کے لیے مرکزی خریدار کا کردار ادا کرے گا جو شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں'۔

کوئی ' مین-سوئچ' نا ہو

بزنس سافٹ ویئر الائنس نامی ٹیک انڈسٹری گروپ کے آرون کوپر نے خاص طور پر ماضی میں تجارتی کشیدگیوں کے بعد اُن یورپیوں کو تسلی دینے کی کوشش کی جو خوفزدہ ہیں کہ کسی بھی امریکی انتظامیہ کشیدگی کے دوران بلاک کو نقصان پہنچا سکتی ہے، ۔ کوپر نے AFP کو   انٹرویو میں کہا  کہ کمپنیاں 'جہاں بھی وہ کاروبار کر رہی ہیں قوانین کی پابندی کرنا چاہتی ہیں'۔

یورپ، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا پیسفک کی IBM  کی چیئر آنا پاؤلا اسیئس نے کہا "امریکی ٹیکنالوجی فرمیں یہ زور دینا چاہتی ہیں کہ جب وہ امریکی خدمات استعمال کر رہی ہوں تو یورپی صارفین اپنے ڈیٹا پر کنٹرول برقرار رکھیں گے۔ 'ڈیجیٹل خودمختاری کنٹرول  سے تعلق رکھتی ہے، صرف سرحدوں کے بارے میں نہیں۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یہ پیکیج جدت کو فروغ دے گا اور یورپ کو مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں امریکہ اور چین کے ساتھ ہم قدم ہونے میں مدد ملے گی۔

مگر ڈاٹ یورپ کے ڈائریکٹر جنرل بین بریک نے، جن کے اراکین میں ایمازون اور ایپل شامل ہیں، کہا کہ 'تجارتی تنازعات کے جواب میں امریکی کارپوریشنز کے خلاف سر اٹھانا  نہ تو جدت کو فروغ دے گا اور نہ ہی یورپ کی مسابقت کو مضبوط کرے گا۔'