مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں آنے والے اضافے نے جنوب مشرقی ایشیا کی آٹو مارکیٹ کو تیزی سے تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے، کیونکہ صارفین بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں سے بچنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں زبردست اضافہ کر رہے ہیں۔
تنازع شروع ہونے کے بعد خام تیل کی قیمتیں تقریباً 50 فیصد بڑھ چکی ہیں، اور پیر کے روز ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر گئی ہیں، جس سے پورے ایشیا میں ایندھن پر انحصار کرنے والی معیشتیں دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔
درآمد شدہ تیل کے محدود متبادل ہونے کی وجہ سے اس اضافے نے گھریلو صارفین کو سخت متاثر کیا ہے جبکہ الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو بڑا فائدہ پہنچا ہے۔
ویتنام کی معروف صنعت کار کمپنی VinFast اس صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں سامنے آئی ہے۔ نیسڈیک میں درج اس کمپنی نے مارچ میں ملکی فروخت میں سال بہ سال 127 فیصد اضافے کی اطلاع دی، جو 27,600 گاڑیوں تک پہنچ گئی۔
اس سال ویتنام میں الیکٹرک گاڑیاں پہلے ہی گاڑیوں کی فروخت کا تقریباً 40 فیصد حصہ بن چکی ہیں اور یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
" VinFast کے ایک شو روم کے سینئر سیلز ایگزیکٹو نے کہا کہ اس وقت صارفین گاڑیوں کے انتخاب میں ایندھن کی لاگت کو بہت زیادہ مدنظر رکھ رہے ہیںاور بتایا کہ گزشتہ ماہ آدھے سے زیادہ خریدار پیٹرول سے الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقل ہو گئے۔
صارفین کی آمد میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے طلب پوری کرنے کے لیے دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کرنا پڑی ہے۔
یہ رجحان صرف ویتنام تک محدود نہیں۔ چینی آٹو ساز کمپنیاں جن کی قیادت BYD کر رہی ہے بدلتے ہوئے صارف رویوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے جنوب مشرقی ایشیا میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
اندرونی سطح پر مقابلہ بڑھنے کے ساتھ، BYD بیرونِ ملک ترقی پر شرط لگا رہی ہے اور اب توقع کرتی ہے کہ 2026 میں اس کی برآمدات 1.5 ملین گاڑیوں سے تجاوز کر جائیں گی۔
صنعتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں چینی الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنی ہو گئیں جن میں جنوب مشرقی ایشیا ایک اہم بازار ہے۔
حکومتیں بھی اس میں شامل ہو رہی ہیں: انڈونیشیا نے حال ہی میں توانائی کی زیادہ کھپت کو کم کرنے کے لیے قومی EV ایکو سسٹم کی ترقی کو تیز کرنے کا عہد کیا ہے۔
یہ تبدیلی عارضی کے بجائے زیادہ تر ساختی نظر آتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر طلب بڑھ رہی ہے، اور جاپان، جنوبی کوریا اور نیوزی لینڈ جیسے بازاروں میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن دوگنی سے زیادہ ہو چکی ہے جبکہ بھارت اور آسٹریلیا میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔















