ایران نے آج بروز جمعرات جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی بحری نقل و حمل کے لیے کھلی لیکن "دشمنوں" اور ان کے علاقائی اڈّوں کے لیے بند رہے گی۔
ایران کے دینی لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر اعلیٰ اکبر ولایتی نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی 'X' سے جاری کردہ بیان میں کہا ہےکہ جنگ کے نتیجے کا دارامدار ہمارے رقیبوں کے اوہام پر نہیں ہماری حکمتِ عملی پر ہے۔
انہوں نے کہا ہےکہ "آبنائے ہرمز دنیا کے لیے کھلا ہے لیکن ایرانی عوام کے دشمنوں اور علاقے میں ان کے ٹھکانوں کے لیے بند رہے گا"۔
ولا یتی نے مزید کہا ہے کہ جنگ، جارح قوّتوں کی سرمستی اور اوہام کے ساتھ نہیں ایران کی شرائط ، ایران کی حکمتِ عملی اورایران کی غالبیت کے ساتھ ختم ہوگی"۔
ولایتی نے یہ بیانات ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس سے ایک ٹیلی ویژن خطاب کے بعدجاری کئے ہیں۔ خطاب میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس "بہت کم" میزائل لانچر باقی ہیں اور اس کی میزائل اور ڈرون فائر صلاحیت "ڈرامائی طور پر محدود" ہو گئی ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ جنگ مزید دو سے تین ہفتے جاری رہ سکتی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ تنازعہ "خاتمے" کے قریب ہے۔
دوسری طرف تہران نے آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے، جو کہ ایشیائی ممالک کو توانائی فراہم کرنے والی ایک اہم آبی راہداری ہے، اور تہران دوست ممالک کے بحری جہازوں کو درّے سے گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔












