نیپالی حکام نے بتایا کہ انہیں چین کی طرف سے انتباہ موصول ہوا ہے کہ کل رونما ہونے والے سیلاب کے بعد عمل میں آنے والی جھیل ٹوٹ سکتی ہے۔
پولیس نے کہا کہ تلاش، ریسکیو اور امدادی کارروائیوں پر مامور تمام سکیورٹی اہلکاروں، نجات کارکنوں اور مقامی لوگوں کو چوکس رہنے اور فوری طور پر محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مذکورہ دعوے کی تا حال تصدیق نہیں ہو سکی ہے، لہٰذا حکام نے شہریوں سے چوکس رہنے کی اپیل کی ہے۔
کھٹمنڈو پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سیلاب میں ہلاک شدگان کی تعداد 469 ہو گئی ہے۔
نیپالی حکام نے کہا کہ سیلابی پانیوں کی وجہ سے درجنوں پل منہدم ہو گئے، سڑکیں متاثر ہوئیں اور تلاش و ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹر روانہ کیے گئے ہیں۔
حکام نے اعلان کیا کہ 1300 سے زائد افراد لاپتہ ہیں جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق نیپال کے سیلاب کے باعث چین کے تبت خودمختار خطے میں 3 افراد ہلاک اور 558 افراد کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔
ماہرین گلیشیئر کے ٹوٹنے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
سیلاب سے قبل علاقے میں پہلے ایک زلزلہ آیا تھا، امریکی جیولوجیکل سروے نے اپنے ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5.2 شدت کے اس زلزلے کا سبب گلیشیئر کا گرنا تھا۔
کٹھمنڈو میں قائم بین الاقوامی ماؤنٹین ڈیولپمنٹ سینٹر (ICIMOD) کے ماہرین نے بھی کہا کہ علاقے کے پہاڑی حصے سے ٹوٹ کر گرنے والے گلیشیئر کے ٹکڑوں نے برفانی تودے کو متحرک کیا، جس نے سیلاب پید ا کیا۔


















