صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "ہم جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کوریا کے ساتھ تعاون کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔"
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میانگ کی دعوت پر سیول کے دورے پر موجود ا یردوان نے وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے بعد منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
ترکیہ اور جنوبی کوریا کے درمیان تاریخی دوستی کی بنیادوں کو یاد دلاتے ہوئے، جو 76 سال قبل کوریا کی جنگ میں کوریا کی آزادی کے لیے ترک فوجیوں کی قربانیوں سے رکھی گئی تھیں، ایردوان نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی رابطے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو متحرک اور مستقبل پر مرکوز انداز میں آگے بڑھائیں گے۔
میزبان صدر لی کے ساتھ ملاقات میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو ترجیحی ایجنڈے کے طور پر بتاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ایک اور اہم موضوع نیوکلیئر انرجی اور مائننگ (معدنیات) پر مشتمل تھا۔
ایردوان نے کہا کہ "ہم خاص طور پر بیٹری کی پیداوار،مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹرز سمیت کئی جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کوریا کے ساتھ تعاون کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، دفاعی صنعت ان اولین شعبوں میں شامل ہے جہاں ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کے ٹھوس نتائج برآمد ہوئے ہیں ، محترم صدر کے ساتھ ملاقات میں ہم نے فر طنہ ہووٹزر اور التائے ٹینک جیسے کامیاب مشترکہ منصوبوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔"
ترک صدر نے ان الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہ "بین الاقوامی معاملات پر ہمارے خیالات کافی حد تک یکساں ہیں، ہم جزیرہ نما کوریا میں مستقل امن اور استحکام کے قیام کے لیے بات چیت پر مبنی نقطہ نظر کی حمایت کرتے ہیں،" اس بات پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ، میکٹا اور جی 20 سمیت کثیر الجہتی پلیٹ فارمز پر تعاون کو پوری انسانیت کے فائدے کی خاطر مزید آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔





















