ننیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رُٹے نے یوروپی یونین کمیشن کی صدر ارسولا وون ڈر لیئن کے ساتھ نیٹو انقرہ سمٹ کے پہلے روز منعقدہ دفاعی صنعت فورم کے تحت ہونے والے ایک پینل میں خطاب کیا۔
روٹے نے بتایا کہ ترکیہ کی دفاعی صنعت صدرِ مملکت کے براہِ راست ماتحت کام کرنے والی 'دفاعی صنعت ادارے" کے کنٹرول میں ہے اور تقریباً تین ہزار دفاعی صنعت کی کمپنیاں — چھوٹی، درمیانی اور بڑی —قریبی باہمی تعاون کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
روٹے نے کہا کہ یہ کمپنیاں پہلے اپنی مادرِ وطن ترکیہ کی ضروریات پوری کرتی ہیں اور ساتھ ہی نیٹو کے جغرافیائی دائرہ کار کے تمام حصوں اور نیٹو کے باہر کے ممالک کو بھی برآمدات کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ میرے خیال میں ایک نہایت دلچسپ ماڈل ہے اور جہاں تک مجھے معلوم ہے کچھ اتحادی ممالک یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا وہ اسے اپنے ملکوں میں نافذ کر سکتے ہیں یا نہیں۔ ان کے بقول یہ دفاعی صنعت کے شعبے میں معاشرے کے تمام طبقات کو شامل کرنے والے نقطۂ نظر کی ایک عمدہ مثال ہے۔
ترکیہ نے اتحاد کے اندر ہمیشہ بہت اہم کردار ادا کیا ہے
یوروپی کمیشن کی صدر ارسولا وون ڈر لیئن نے بھی یورپی یونین اور نیٹو کے درمیان تعاون کی اہمیت کی نشاندہی کی اور ترکیہ کے نیٹو میں کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ نے اتحاد کے اندر ہمیشہ بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ ہمارے لیے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
وون ڈر لیئن نے کہا کہ ترکیہ کے ساتھ SAFE Europe کے لیے حفاظتی اقدام کے 35 فیصد حصے کے تحت مل کر کام کرنے کے امکانات موجود ہیں، اور 2030 تک متوقع 800 ارب یورو کی سرمایہ کاری اس بات پر منحصر ہے کہ رکن ریاستیں اپنی دفاعی بجٹس کس کسی شعبے میں خرچ کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ ان کے بقول یہ ترکیہ کے ساتھ انتہائی قریبی تعاون کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔
















