دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکہ فوجی مداخلت کے لیے بہانے تلاش کر رہا ہے: کیوبا
فِدیل کاسٹرو کی پیدائش کی یک صد سالہ یوم   پیدائش کے موقع پر منعقدہ ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈياز-کینیَل نے امریکی پالیسیاں تنقید کا نشانہ بنائیں اور کیوبا کو خطرہ قرار دینے والی واشنگٹن کے پلان کو مسترد کیا۔
امریکہ فوجی مداخلت کے لیے بہانے تلاش کر رہا ہے: کیوبا
کیوبا / Reuters

کیوبن صدر میگوئل ڈياز-کینیَل نے ہوانا میں ایک بین الاقوامی یکجہتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے ملک کے خلاف فوجی مداخلت کے لیے بہانہ تلاش کر رہا ہے۔

فِدیل کاسٹرو کی پیدائش کی یک صد سالہ یوم   پیدائش کے موقع پر منعقدہ ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈياز-کینیَل نے امریکی پالیسیاں تنقید کا نشانہ بنائیں اور کیوبا کو خطرہ قرار دینے والی واشنگٹن کے پلان کو مسترد کیا۔

 انہوں نے کہا  کہ امریکہ ہمیں اپنے لیے غیر معمولی اور غیر روایتی خطرہ قرار نہیں دیتا ،ہم پُراعتماد ہیں کہ یہ امریکی عوام کا جذبہ نہیں بلکہ ایک بہانہ ہے جسے امریکی حکومت نے ہم پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے ،ایک سوال اٹھتا ہے: خطرہ کیا ہے؟ اس خطرے میں کیا غیر معمولی بات ہے؟ میں یہ سوال روزانہ اپنے آپ سے پوچھتا ہوں۔ کوئی بہانہ نہیں، کوئی وجہ نہیں جو کیوبا کے خلاف فوجی حملے کو جائز ثابت کرے ۔

،” انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں نسل کشی جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں، جیسے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی، جیسے لبنان کے عوام کے خلاف نسل کشی، اسی لیے جارحیت اور جنگ کی زبان بین الاقوامی تنازعات حل کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے

3 جنوری کو وینزویلا کے خلاف ایک امریکی فوجی مداخلت کے طور پر جو انہوں نے بیان کیا، اس کا حوالہ دیتے ہوئے ڈياز-کینیَل نے واشنگٹن پر عالمی غلبہ چاہنے اور وینزویلا کے صدر نیکولس مادُورو کو 'نارکو-ریاست' کے بیانیے کے ذریعے نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔

 صدر نے کہا کہ  امریکہ  نے بولیواری انقلاب کے جائز صدر نیکولس مادورو کو سیاسی حربوں  اور میڈیا کے ذریعے بدنام  کرنے کی کوشش کی پھر اس نے وینزویلا پر بحری محاصرہ عائد کیا اور پچھلے 20 سالوں میں کیریبین میں سب سے بڑی امریکی فوجی موجودگی مسلط کر دی۔

ڈياز-کینیَل نے کہا کہ ایرانی عوام نے امریکی جارحیت کا مقابلہ کیا ہے اور زور دیا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور نہ ہی اس نے انہیں استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔

انہوں نے کیوبن عوام کو درپیش مشکلات کے بارے میں امریکہ کے اظہارِ خیال کو مضحکہ خیزاور بے معنی  قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ اگر وہ واقعی اتنے فکر مند ہیں تو محاصرے کو ختم کریں۔ کیونکہ کیوبا کے عوام کے بنیادی مسائل اسی طویل المدتی محاصرے کے جاری رہنے سے جنم لیتے ہیں۔

امریکہ کی فوجی مداخلت کی صورت میں سنگین نتائج کی وارننگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ امریکی حکومت کے ساتھ اختلافات بات چیت کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں مگر تعاون کے ایسے شعبے تلاش کرنے کے لیے نیت اور سنجیدگی ہونی چاہیے جو مفاہمت لائیں اور ہمیں تنازع سے دور رکھیں۔

 

دریافت کیجیے
عراق سے آنے والے 3 ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا:سعودی عرب
امریکہ: فضائی مظاہرے کے دوران دو جنگی طیارے آپس میں ٹکرا گئے
آئی سی سی نے5 اسرائیلی حکام کے خلاف وارنٹ جاری کر دیئے
کیف کے روس پر ڈرون حملے جائز ہیں:زیلنسکی
بلغاریہ 2026 یورو ویژن مقابلہ موسیقی جیت گیا
چین اور امریکا نے ٹیرف کم کرنے پر اتفاق کر لیا
برطانیہ نے خلیج میں کم لاگت والا اینٹی ڈرون میزائل نظام نصب کر دیا
غزہ میں گاڑی پر حملہ،2 فلسطینی ہلاک
اسرائیل کی مشرق وسطی میں اشتعال انگیز کارروائیاں ختم ہونی چاہئیں، صدر ایردوآن
ترک قومی خفیہ ایجنسی نے جاسوسی نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا
حماس کے فوجی سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں، حماس سینیئر حکام
روس نے 528 اجساد یوکرین کے سپرد کر دیے: کیف
امریکہ-ایران کے درمیان مذاکرات کی میز پر مفاہمت، میدان میں حملوں کی تیاری
اسرائیل کے تازہ حملوں میں غزہ میں 7 افراد ہلاک اور 45 سے زائد زخمی
ترک اور ازبک صدور  کی ترکستان میںترک ریاستوں کی تنظیم کے اجلاس کے دوران ملاقات