دنیا
2 منٹ پڑھنے
جنوبی روس میں یوکرینی ڈراونز کا ایک بندرگاہ اور ایک تیل کے ڈپو پر حملہ
حکام کا کہنا ہے کہ یوکرینی ڈرونز نے روستوف اور کراسنودار علاقوں میں توانائی کی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد ہوائی دفاع کی جانب سے متعدد ڈراونز کو روکنے کی رپورٹیں ملی ہیں۔
جنوبی روس میں یوکرینی ڈراونز کا ایک بندرگاہ اور ایک تیل کے ڈپو پر حملہ
یوکرینی ڈرونز نے جنوبی روس کے علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ [فائل فوٹو] / Reuters

روسی جنوبی علاقوں روسٹوف اور کراسنودار کے حکام نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ یوکرینی ڈرونز نے  کل شب روسی بندرگاہ تاگانروگ میں ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا اور آرماویر شہر میں ایک تیل کے ڈپو پر حملہ کیا  ہے۔

روسٹوف کے گورنر یوری سلیسار نے ٹیلیگرام پر کہا کہ ٹینکر اور تاگانروگ بندرگاہ میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا  ہے — یہ شہر تقریباً 240,000 نفوس کا حامل ہے — اور تیل کے رساؤ کی کوئی اطلاع نہیں ملی، اس دو ران دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

شہر کی میئر سوتلانہ کامبولووا نے کہا کہ 27 مئی کو نافذ کی جانے والی مقامی ہنگامی صورتحال میں توسیع کر  دی گئی ہے۔

اس کے پڑوس میں واقع کراسنودار کےحکام نے کہا ہے کہ شہر کے صنعتی علاقے میں واقع تیل کے ڈپو میں لگی آگ پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

روسٹوف گورنر سلیسار نے کہا کہ خطے میں تقریباً 50 ڈرون گرانے گئے، اور صوبے کے مختلف حصوں میں حملوں کی اطلاع ملی ہے، یہ صوبہ یوکرین کے دونباس ،جو روس اور یوکرین کے مابین لڑائی کا مرکز ہے، سے متصل ہے۔

یوکرینی ڈراون فورسز کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ڈراون نے قابض کریمیا میں غیر رجسٹرڈ بیڑے کے ٹینکر اور ایک تیل کے ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

رابرٹ بروفدی نے ٹیلیگرام پر کہا کہ ڈرون فورسز نے روس کے اندر 23 عسکری اہداف پر بھی حملے کیے، جن میں دو ٹوپولیف-142 طویل فاصلے کے بحری نگرانی کے طیارے اور ایک اسکندر میزائل کمپلیکس شامل ہیں۔