غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل نے ٹی آر ٹی ورلڈ کے صحافی یحییٰ برزق کو قتل کر دیا
صحافیوں پر حملے کبھی بھی سچائی کو خاموش نہیں کر سکتے۔ ہم یحییٰ کے لیے دعا گو ہیں اور ان کے خاندان، ساتھیوں اور عزیزوں سے اظہارِ  تعزیت کرتے ہیں: برہان الدین دوران
اسرائیل نے ٹی آر ٹی ورلڈ کے صحافی یحییٰ برزق کو قتل کر دیا
TRT World’s freelance journalist Yahya Barzaq, killed in an Israeli airstrike in Gaza. / X/QudsNen

ٹی آر ٹی ورلڈ کے فری لانس صحافی یحییٰ برزق ،وسطی غزہ کے علاقے 'دیر البلح' پر اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔

برزق، شہریوں پر جنگ کے اثرات کو دستاویزی شکل دینے کے مشن پر تھے۔ ایک اسرائیلی حملے نے اس کیفے کو نشانہ بنایا جہاں وہ ویڈیو مناظر جمع کر رہے تھے۔

فلسطینی ذرائع ابلاغ  کے مطابق، اس حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

طبی عملے کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسرائیل نے  منگل کے حملوں میں، ایک حاملہ عورت اور ایک بچے سمیت، کم از کم 58 فلسطینی قتل کر دیئے ہیں۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے  دیر البلح پر حملےمیں ایک بڑھئی کی دکان  کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

برزق اور دیگر افراد کو شہر کی انوائرمنٹ اسٹریٹ کے قریب قتل کیا گیا ہے۔

انسٹاگرام پر اپنی آخری پوسٹوں میں برزق نے کہا  تھا کہ وہ،  اسرائیلی بمباری اور جبری بے دخلی کی دھمکیوں کے باعث غزہ شہر سے جنوب کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

پوسٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ "میرا جسم جنوب منتقل ہوگیا ہے لیکن میرا دل اب بھی غزہ شہر میں ہے۔"

ترکیہ کی طرف سے  مذمت

ترکیہ صدارتی محکمہ اطلاعات کے سربراہ  'برہان الدین دوران' نے جاری کردہ بیان میں برزق کو "ایک بہادر آواز قرار دیا  ہے۔ ایسی آواز جو قبضے اور ظلم کے سائے میں سچائی کی تلاش میں تھی۔"

انہوں نے کہا ہے کہ" ٹی آر ٹی ورلڈ کی دستاویزی فلم 'غزہ اِن مائی فوٹوگرافس' میں پیش کی گئی ان کی سوانح حیات ان کے  دنیا کو حقیقت بتانے کے  عزم کا اظہار ہے۔ صحافیوں پر حملے کبھی بھی سچائی کو خاموش نہیں کر سکتے۔ ہم یحییٰ کے لیے دعا گو ہیں اور ان کے خاندان، ساتھیوں اور عزیزوں سے اظہارِ  تعزیت کرتے ہیں۔"

ٹی آر ٹی کے ڈائریکٹر جنرل زاہد صوباجی نے بھی اس حملے کی سخت مذمت کی اور کہا  ہےکہ برزق کا قتل غزہ میں صحافیوں کو درپیش خطرات کی ایک اور یاد دہانی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "ہمارا  ساتھی' یحییٰ برزق' انتہائی مشکل حالات میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھے اور ہمیں اس کی وفات کا شدید رنج ہے۔ اسرائیل صحافیوں کو نشانہ بنا کراپنے  انسانیت سوز جرائم کو چھپا نہیں سکتا۔ جلد یا بدیر اس کا  احتساب  ضرور ہوگا۔"

برزق کو ایک نئے  فوٹوگرافر کی حیثیت سے  غزہ بھر میں  پہچانا جاتا تھا۔

جنگ سے پہلے، ان کے انسٹاگرام صفحے پر ان کا نجی اسٹوڈیوغزّہ کے  بچوں کی تصاویر سے آراستہ تھا۔

اسرائیلی حملوں  کے بعد سے ان کی انسٹاگرام  فیڈ ، موت اور تباہی کی علامت، سیاہ لکیروں سے نشان زدہ تصاویر میں تبدیل ہوگئی  تھی۔

انہوں نے جنگ میں قتل کئے گئے  بچوں کے لئے  پُر سوگ ویڈیو بھی جاری کیں۔

فلسطینی اور بین الاقوامی  مبّصرین کے مطابق 'برزق 'اِن کم از کم 250 صحافیوں اور میڈیا کارکنوں میں شامل ہیں جو 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں قتل کئے جا چکے ہیں۔ اتنی بھاری تعداد کی وجہ سے  یہ جنگ جدید تاریخ میں صحافیوں کے لیے مہلک ترین جنگ  بن گئی ہے ۔

فلسطینی ذرائع ابلاغ نے کہا  ہےکہ برزق کا قتل،  غزہ میں شہری علاقوں اور بنیادی شہری ڈھانچے پر شدّت اختیار کرتی بمباری کے دوران، خاص طور پر  صحافیوں کو نشانہ بنانے کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔

دریافت کیجیے
یوکرین کے رات گئے روس پر حملے میں دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے
اسرائیل کا جنوبی شام پر حملہ،گوتیرس علاقے میں
برازیل: فلاویو بولسونارو نےاپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا
ایران کے خلاف عسکری کاروائیوں میں تیزی  فی الوقت روک دی ہے:ٹرمپ
برلن میں گاڑی ہجوم پر چڑھ گئی،1 شخص ہلاک،متعدد زخمی
اسرائیل کی 763 نئے غیر قانونی آباد کاری کے یونٹوں کی منصوبہ بندی
یوکرین کا ایرانی جہاز پر حملہ،ایران کی جوابی کاروائی
نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے میں 'وسیع پیمانے پر' فوجی آپریشن کا حکم
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے