دی نیویارک ٹائمز کے کالم نگار نکولس کرسٹوف کے تازہ ترین مضمون نے اسرائیلی حراستی مراکز میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو عالمی ایجنڈے پر لا کھڑا کیا ہے۔
دی نیویارک ٹائمز کے کالم نگار نکولس کرسٹوف نے "فلسطینیوں کے جنسی استحصال پر خاموشی" کے عنوان سے ایک چونکا دینے والا کالم لکھا ہے۔
کرسٹوف نے 14 سابق قیدیوں، جن میں خواتین اور مرد شامل ہیں، کے ساتھ کیے گئے اپنے انٹرویوز اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں کی بنیاد پر بتایا کہ اسرائیلی جیلوں میں جنسی تشدد ایک عام "معیاری طریقہ کار" بن چکا ہے۔
سابق قیدیوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی قید کی زندگی کے دوران جنسی زیادتی، شدید زدو کوب، جنسی تشدد کی دھمکیوں اور منظم تذلیل کا سامنا کیا۔
کرسٹوف نے بتایا کہ اگرچہ اس بات کے براہ راست شواہد نہیں ہیں کہ ریپ کا حکم براہ راست رہنماؤں کی طرف سے دیا گیا تھا، لیکن اسرائیل نے ایک ایسا سیکیورٹی نظام قائم کیا ہے جہاں جنسی تشدد ایک طریقہ کار بن چکا ہے۔
مضمون میں 'بی تسیلم' (B'Tselem)، 'سیو دی چلڈرن' (Save the Children) اور 'یورو-میڈ' (Euro-Med) جیسی تنظیموں کے علاوہ اقوامِ متحدہ کی 49 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں اسرائیل پر "جنسی تشدد کے ذریعے اذیت دینے" کا الزام لگایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بعض قیدیوں کو رہائی کے بعد اسرائیلی حکام کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی کہ وہ اپنے تجربات کے بارے میں کسی کو نہ بتائیں۔
عالمی پریس میں وسیع پیمانے پر گونجنے والا یہ مضمون بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے ایک بار پھر خطے میں حراست کے حالات کا جائزہ لینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔












