ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک نامعلوم فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کام کرنے والے امریکی بحری یونٹس ایرانی میزائل حملوں کی زد میں آئے ہیں۔
یہ کارروائی امریکی فوج کی جانب سے ایک ایرانی تیل بردار جہاز پر حملے کے بعد کی گئی۔
جمعہ کی صبح موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ایرانی میزائل حملوں سے نقصان پہنچنے کے بعد امریکی بحری جہاز پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔
فوکس نیوز کے ایک رپورٹر نے سینیئر امریکی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی فوج نے ایران کی بندر عباس اور قشم بندرگاہ پر حملے کیے ہیں۔
پینٹاگون نے ابھی تک اس پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، تاہم بدھ کو امریکی فوج نے بتایا تھا کہ انہوں نے ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ امریکی ایف-18 لڑاکا طیارے نے ٹینکر کے Rudder کو نشانہ بنایا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، بندر عباس اور جزیرہ قشم کے قریب زوردار دھماکے سنے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 'بہمن پیئر' کے کچھ حصے متاثر ہوئے ہیں۔
میزان نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ قشم میں سنائی دینے والے دھماکے فضائی دفاعی نظام کی جانب سے چھوٹے ڈرونز کو گرانے کے باعث ہوئے، جبکہ بندر عباس میں بھی دو ڈرونز مار گرائے گئے۔











