ایک نئی تحقیق کے مطابق حالیہ برسوں میں اسرائیل سے خاص طور پر ہنر مند پیشہ ور افرادکی نقل مکانی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں ڈاکٹروں کا تناسب سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروپوں میں شامل ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی کی اس تحقیق نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران خاص طور پر 2023 کے بعد کے واقعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نقل مکانی کے رجحانات کا جائزہ لیا، جن میں غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کی جنگ، عدالتی اصلاحات، اور عوامی احتجاجات کے اثرات شامل ہیں۔
نتائج کے مطابق، 2023 اور 2024 میں تقریبا 950 ڈاکٹروں نے اسرائیل چھوڑ دیا، واپس لوٹنے والوں کو شامل کرنے سے یہ تعداد 510 بنتی ہے۔
ان میں سے دو تہائی وہ تھے جو اسرائیلی میڈیکل اسکولوں کے فارغ التحصیل تھے، جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں زیادہ تناسب ہے۔
تحقیق نے اسرائیل کے مرکزی شماریاتی دفتر، ہائیر ایجوکیشن کونسل، وزارتِ صحت اور ٹیکس اتھارٹی کے اعداد و شمار استعمال کیے اور نقل مکانی ، تعلیم، لائسنسنگ اور آمدنی کے رجحانات کا تجزیہ کیا۔
واپسی میں سست روی
مطالعہ کا اندازہ ہے کہ مجموعی طور پر 2023 اور 2024 میں تقریباً 100,000 اسرائیلی ملک چھوڑ گئے، جو طویل عرصے تک نسبتی استحکام کے بعد ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
محققین نے کہا ہے کہ " ان میں معالجین، پی ایچ ڈی یافتگان اور دیگر اکیڈمک، انجینئر اور زیادہ آمدنی والا طبقہ شامل ہے جو کہ ایک نمایاں اور تشویشناک اضافہ ہے۔"
انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ واپسی میں سست روی انسانی سرمائے کے اخراج کو بدتر بنا رہی ہے۔
نتائج بتاتے ہیں کہ جانے والے بہت سے ڈاکٹر تجربہ کار پیشہ ور ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ "ہم نے دیکھا ہے کہ 40 سال یا اس سے زیادہ عمر کے معالجین ،جن کے پاس علم اور تجربہ ہے ، ملک چھوڑ رہے ہیں ۔"
تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل اضافے سے سنگین معاشی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
محققین نے کہا، "مزید اقتصادی جھٹکےممکنہ طور پر تارکینِ وطن کی تعداد میں اچانک اور تیز اضافہ کر سکتے ہیں،" اور خبردار کیا کہ یہ رجحان "ملک کے لیے انتہائی بڑا خطرہ" بن سکتا ہے۔
















