روس کےسفیر برائے اقوام متحدہ 'واسیلی نیبنزیا 'نے کہا ہے کہ روس ایران پر، امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی خاطر مذاکراتی میز پر واپسی کے لیے، کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ تہران ایک خودمختار ریاست ہے اور اسے اپنے فیصلے خود کرنے چاہییں۔
جمعرات کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران اس سول کے جواب میں کہ کیا ماسکو ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایرانی حکومت کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی طرف واپس آنے پر آمادہ کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے؟ روسی سفیر نے کہا ہے کہ
"روس اصولی طور پر کسی پر بھی دباؤ نہیں ڈالتا خواہ وہ ایران ہو یا کوئی اور ملک۔ ایران ایک خودمختار ملک ہے اور اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔"
نیبنزیا نے کہا ہے کہ روس نے جاری تنازعے سے متعلق ایران کے ساتھ بات چیت کی ہے تاہم روس اس دعوے کو مسترد کرتا ہے کہ جنگ شروع ہونے یا جاری رہنے کا ذمہ دار تہران ہے۔
نیبنزیا نے امریکہ کو ایران کے خلاف "لاپرواہ اور بلاجواز جارحیت" کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا ہے کہ اس جارحیت کی وجہ ایران کے اعمال یا بے عملی نہیں ہیں۔
روسی سفیر نے مزید کہا ہے کہ"میں نہیں سمجھتا کہ ثالثوں کی مدد سے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد سے پیچھے ہٹنے والا فریق ایران ہے۔ لہٰذا، مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں اس کے لیے ایران کو موردِ الزام ٹھہرانا چاہیے۔"
"ہم اس پر قابو پالیں گے"
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی معیشت کو تنہا کرنے اور روس سمیت تہران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے والے ممالک پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے نئی مہم شروع کرنے کے اعلان کے بارے میں نیبنزیا نے کہا ہےکہ ماسکو اس طرح کے دباؤ کا عادی ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ"ہم نے روسی معیشت کو تنہا کرنے کے لیے اتنی زیادہ پابندیاں اور دھمکیاں دیکھی ہیں کہ اب ہم انہیں زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔"
نیبنزیا نے کہا ہے کہ روس نے خود کو مغرب کی سابقہ پابندیوں کے مطابق ڈھال لیا ہے اور نئی پابندیوں سے بھی نمٹ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ "میرے خیال میں ہم اس پر قابو پالیں گے۔ روسی معیشت کے بارے میں فکر نہ کریں۔"
روسی سفیر سے ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین قرار دینے کی تجویز کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ اس پر نیبنزیا نے جواب دیا کہ"میں نہیں جانتا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسا کیسے کیا جا سکتا ہے۔"


















