دنیا
3 منٹ پڑھنے
روس: ماسکو ایران پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا
روس اصولی طور پر کسی پر بھی دباؤ نہیں ڈالتا خواہ وہ ایران ہو یا کوئی اور ملک۔ ایران ایک خودمختار ملک ہے اور  اپنے فیصلے خود کرتا ہے: واسیلی نیبینزیا
روس: ماسکو ایران پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا
نیبنزیا نے ایران کے خلاف "لاپرواہ اور بلا اشتعال جارحیت" کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا۔ / َAA

روس کےسفیر برائے اقوام متحدہ  'واسیلی نیبنزیا 'نے کہا ہے کہ روس ایران پر، امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی خاطر مذاکراتی میز پر واپسی کے لیے، کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا۔

 انہوں نے مزید کہا ہے کہ تہران ایک خودمختار ریاست ہے اور اسے اپنے فیصلے خود کرنے چاہییں۔

جمعرات کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران اس سول کے جواب میں کہ کیا ماسکو ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایرانی حکومت کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی طرف  واپس آنے پر آمادہ کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے؟  روسی سفیر نے  کہا ہے کہ

"روس اصولی طور پر کسی پر بھی دباؤ نہیں ڈالتا خواہ وہ ایران ہو یا کوئی اور ملک۔ ایران ایک خودمختار ملک ہے اور  اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔"

نیبنزیا نے کہا ہے کہ روس نے جاری تنازعے سے متعلق ایران کے ساتھ  بات چیت کی ہے تاہم روس  اس دعوے کو مسترد کرتا ہے کہ جنگ شروع ہونے یا جاری رہنے کا ذمہ دار تہران  ہے۔

نیبنزیا نے امریکہ کو ایران کے خلاف "لاپرواہ اور بلاجواز جارحیت" کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا ہے کہ اس جارحیت کی وجہ ایران کے اعمال یا بے عملی نہیں ہیں۔

روسی سفیر نے مزید کہا ہے کہ"میں  نہیں سمجھتا کہ ثالثوں کی مدد سے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد سے پیچھے ہٹنے والا  فریق ایران  ہے۔ لہٰذا، مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں اس کے لیے ایران کو موردِ الزام ٹھہرانا چاہیے۔"

"ہم اس پر قابو پالیں گے"

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی معیشت کو تنہا کرنے اور روس سمیت تہران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے والے ممالک پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے نئی مہم شروع کرنے کے اعلان کے بارے میں نیبنزیا نے کہا  ہےکہ ماسکو اس طرح کے دباؤ کا عادی ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ"ہم نے روسی معیشت کو تنہا کرنے کے لیے اتنی زیادہ پابندیاں اور دھمکیاں دیکھی ہیں کہ اب ہم انہیں زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔"

نیبنزیا نے کہا ہے کہ روس نے خود کو مغرب کی سابقہ پابندیوں کے مطابق ڈھال لیا ہے اور نئی پابندیوں سے بھی نمٹ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ "میرے خیال میں ہم اس پر قابو پالیں گے۔ روسی معیشت کے بارے میں فکر نہ کریں۔"

روسی سفیر سے ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین قرار دینے کی تجویز کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ اس پر نیبنزیا نے جواب دیا کہ"میں نہیں جانتا  کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق  ایسا کیسے کیا جا سکتا ہے۔"

دریافت کیجیے
طوفان ساودل چین میں ہلاکت خیز لرزشِ اراضی کا موجب بنا
ترکیہ امریکہ-ایران جنگ  کے خاتمے کے لیے سرگرداں ہے، صدر ایردوان
بولیویا کی فوجی چھاونی میں دھماکے  میں 10 سے زیادہ افراد ہلاک
گِرنے کے قریب ڈوبنے والی فیری بوٹ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 12ہو گئی
ووکس ویگن نے دنیا بھر میں مزید 50,000 ملازمتیں ختم کر دیں
یمن میں حوثیوں اور حکومتی افواج کے درمیان تصادم میں درجنوں افراد ہلاک
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور