ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ اسرائیلی جنگی کوششوں کے باوجود 'محتاط اور مثبت' موقف پر اٹل ہے: ایردوان
انقرہ "جامع ضوابط" متعارف کرائے گا جن کا مقصد ترکیہ کو "دنیا کے سب سے زیادہ پرکشش سرمایہ کاری مراکز میں سے ایک" بنانا ہے۔
ترکیہ اسرائیلی جنگی کوششوں کے باوجود 'محتاط اور مثبت' موقف پر اٹل ہے: ایردوان
اردوغان نے کہا کہ نہ خطہ اور نہ دنیا ماضی میں واپس جا سکتی ہے۔ / TRT World

ایک طرف  اسرائیل جیسے عناصر جنگ کے شعلے دوبارہ بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو  صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ وہ اس عمل کو "احتیاطی انداز میں پُرامید" رہ کر دیکھ رہے ہیں۔

جمعہ کو استنبول کے دولماباہچے صدارتی دفتر میں منعقدہ ' ترکیہ صدی سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط مرکز' تقریب سے خطاب میں ایردوان نے کہا کہ نہ تو خطہ اور نہ ہی دنیا ماضی کی طرف لوٹ سکتی ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ "بڑے جھٹکے سے پیدا ہونے والی دراڑوں کے اثرات وقت کے ساتھ واضح ہوتے  جائیں گے۔"

صدر ایردوان نے کہا: "حالیہ دور کے ایک بڑے سیکیورٹی بحران کو کامیابی سے نمٹا کر ترکیہ نے ایک بار پھر اپنی خطے میں استحکام کے جزیرے کے طور پر اپنی حیثیت کو قائم اور مضبوط کر دیا ہے۔"

ترک صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب اسرائیل نے خطے میں متعدد محاذوں پر اپنی فوجی جارحیت میں توسیع کی ہے، جس میں غزہ جنگ، لبنان اور شام میں جاری حملے، اور ایران کے ساتھ براہِ راست تنازع شامل ہیں۔

ترکیہ نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملے علاقائی عدم استحکام کو گہرا کر سکتے ہیں اور وسیع تر تنازع کو بھڑکا سکتے ہیں، جبکہ  ترکیہ  ایک مستحکم کردار کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کر رہا ہے۔

سرمایہ کاری کا مرکز

صدر ایردوان نے ترکیہ کو عالمی سطح پر ایک اہم سرمایہ کاری مرکز  کا درجہ دلانے کے زیر مقصد وسیع اصلاحات کا عندیہ بھی دیا  اور بین الاقوامی سرمایہ کو راغب کرنے کے لیے نئی ترغیبات کا اشارہ دیا۔

حکومت کے اقتصادی روڈ میپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ایردوان نے کہا کہ انقرہ "جامع ضوابط" متعارف کرائے گا جن کا مقصد ترکیہ کو "دنیا کے سب سے زیادہ پرکشش سرمایہ کاری مراکز میں سے ایک" بنانا ہے،  اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مسابقت میں دوبارہ بہتری لانے  کا ہدف مقرر  کیا  گیا ہے۔

منصوبے کے مرکز میں استنبول فنانس سنٹر ہے، جہاں حکومت کمپنیوں کے لیے اضافی ٹیکس مراعات جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ترک رہنما نے کہا کہ اس مرکز کے ذریعے ٹرانزٹ تجارت کرنے والی کمپنیوں کو منافع پر 95 فیصد ٹیکس معافی سے استفادہ ملے گا، جو استنبول کو عالمی مالیاتی ترسیل  اور تجارت کے لیے ایک کلیدی مرکز بنانے کی سمت ایک اقدام ہے۔

یہ اقدامات ترکیہ کی وسیع تر حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان اپنی جغرافیائی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے متبادل مالی مراکز کا مرکز بننے کی اپنی کشش کو تقویت دے گا۔

صدر ایردوان نے اس اقدام کو اقتصادی لچک مضبوط کرنے اور اعلیٰ قدر والی سرمایہ کاری میں توسیع کی طویل مدتی بصیرت کا حصہ قرار دیا، اور اشارہ دیا کہ جب انقرہ عالمی سرمایہ کاری کے تیزی سے مسابقتی منظرنامے میں اپنی برتری تیز کرنا چاہتا ہے تو مزید ضوابطی اقدامات بھی سامنے  آ سکتے ہیں۔

دریافت کیجیے
ترکیہ کو F-35 پروگرام میں واپس آجانا چاہیئے: امریکی سفیر
کریملن:پوتن زیلینسکی سے امن معاہدہ ہونے کی صورت میں ملاقات کے لیے تیار ہیں
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں نامور لبنانی صحافی امل خلیل کو ہلاک کر دیا
ترکیہ عالمی تجارتی راہداریوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہے: شیمشیک
متعدد ایرانی ٹینکر کامیابی سے امریکی ناکہ کاٹ چُکے ہیں
ایران کے قریب جہاز پر حملہ، عملہ محفوظ رہا
امریکی میزائل ذخائر میں 'نمایاں کمی' آئی ہے، مستقبل میں یہ صورتحال سنگین بن سکتی ہے: رپورٹ
یورپی یونین میں مہاجر آبادی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی
ایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ
اقوام متحدہ: ہم جنگ بندی میں توسیع کا خیرمقدم کرتے ہیں
"جنگ بندی میں توسیع " تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط
فلپائن: وسیع پیمانے کی آتشزدگی درجنوں گھر تباہ
امریکہ: جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان ملتوی ہو گیا
ترک پہلوان نےکُشتی میں ریکارڈ قائم کر لیا
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایک پبلک اسکول کو تباہ کر دیا ہے