امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے میں امریکہ اپنی حکمتِ عملی میں تمام اختیارات کھلے رکھے ہوئے ہے اور ساتھ ہی ایران پر زور دیا کہ وہ معاہدے کے لیے مذاکرات کرے۔
کولوراڈو کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ہیگسیتھ نے دہرایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، البتہ انہوں نے کہا کہ اگر ایران معاہدہ کرنے سے انکار کرے تو امریکی فوج کے پاس متبادل منصوبے موجود ہیں۔ایران کو ایک معاہدہ کرنا چاہیے اور یہ وہ نتیجہ ہے جسے صدر ترجیح دیں گے۔
ہماری ذمہ داری اختیارات فراہم کرنا ہے اور اگر ایران نے معاہدہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو ہم صدر کو اختیارات فراہم کریں گے۔
جب پوچھا گیا کہ کیا فوجی حملے ابھی بھی زیرِ غور ہیں تو ہیگسیتھ نے کہا کہ سب کچھ میز پر ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ صدر کا فیصلہ ہے، ہم یہاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ معاہدہ ہو اور میرا خیال ہے کہ ایران کے لیے عقلمندی ہوگی کہ وہ ایک اچھا معاہدہ کرے۔
قبل ازیں، ٹرمپ نے ان میڈیا رپورٹس کو رد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے صدر اور دیگر اعلیٰ حکام کو مشورہ دیا ہے کہ ایران میں فوجی کارروائی میں نمایاں خطرات ہو سکتے ہیں اور یہ امریکہ کو خطے میں طویل تنازع میں الجھا سکتی ہے۔
انہوں نے اپنی Truth Social پوسٹ میں کہا کہ جعلی نیوز میڈیا کی متعدد کہانیاں گردش کر رہی ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ جنرل ڈینیئل کین ایران کے خلاف جنگ کے حامی نہیں ہیں جو کہ سو فیصد غلط ہے۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ فوجی کارروائی کے بارے میں حتمی فیصلہ بالآخر ان کا ہوگا ،میں ہی وہ ہوں جو فیصلہ کرتا ہے، میں معاہدہ چاہوں گا مگر اگر ہم معاہدہ نہ کر سکے تو اس ملک کے لیے بہت برا دن ہوگا اور بدقسمتی سے اس کے عوام کے لیے بھی، کیونکہ وہ شاندار اور اچھے لوگ ہیں، اور ان کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
ایران اور امریکہ کے وفود جمعرات کو جنیوا- سوئٹزرلینڈ میں دوبارہ ملاقات کر کے ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے۔












