ترکیہ کے وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ خطّے کو درپیش مسائل میں ترکیہ اور قطر کے تعاون نے ایک نمایاں مثال قائم کی ہے۔
اپنے دورہ قطر کے دوران قطر ٹی وی کے لئے ایک انٹرویو میں خاقان فیدان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قطر اور ترکیہ تاریخی اور مضبوط تعلقات رکھنے والے دو ملک ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد مرحوم امیرِ قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے دور میں رکھی گئی تھی۔
خاقان فیدان نے کہا ہے کہ"آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ لبنان سے افغانستان، افغانستان سے سوڈان، سوڈان سے غزہ اور مسئلۂ فلسطین اور ایران کے معاملے تک متعدد موضوعات پر ترکیہ اور قطر کے تعاون نے ایک نمایاں مثال قائم کی ہے اور اس تعاون کو اب خطے کے دیگر ممالک بھی سراہ رہے ہیں۔ درحقیقت ہم ہمیشہ سے کہتے چلے آ رہے ہیں کہ خطے کو باہمی رقابت کے بجائے تعمیری تعاون کی ضرورت ہے اور قطر اس مقصد کے لیے انتہائی سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔"
انہوں نے خلیجی خطے میں، خصوصاً قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عمان کی گزشتہ برسوں میں ہونے والی نمایاں ترقی کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ ان ممالک نے ترقی، بنیادی سہولیات کی بہتری اور عالمی معیار کے مضبوط ریاستی و شہری ڈھانچے قائم کرنے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
خاقان فیدان نے کہا ہے کہ 28 فروری سے جاری امریکہ۔ایران جنگ کے خطے کی معیشت پر منفی اثرات کا بھی ذکر کیا اور خبردار کیا ہے کہ اگر یہ جنگ مزید پھیلی تو خطے کو مزید سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنائے جانے کی یاد دہانی کروائی اور کہا ہے کہ
"ہماری خواہش ہے کہ ایران اور امریکہ جلد از جلد دوبارہ کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کی ثالثی، قطر کی بھرپور کوششوں اور ترکیہ کے تعاون سے ایک مفاہمتی یادداشت تیار کی گئی تھی لیکن بعد میں ہم اس راستے سے دور ہو گئے۔ ضروری ہے کہ دوبارہ اسی عمل کی طرف لوٹا جائے۔"
وزیرِ خارجہ نے کہا ہےکہ دورہ قطر کے دوران طے پانے والی ملاقاتوں میں بھی انہی موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ "مجھے خوشی ہے کہ قطر ایک مرتبہ پھر اس بحران کے حل کے لیے تمام تعمیری ذرائع اور تمام ممکنہ رابطوں کو بروئے کار لا رہا ہے اور اپنی پوری کوشش کر رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں کوئی اچھی خبر سننے کو ملے گی۔ ترکیہ بھی اس معاملے میں قطر کے ساتھ قریبی رابطے اور ہم آہنگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ قطر کی سلامتی اور امن اور پورے خطے کی سلامتی اور استحکام ترکیہ کے بھی مفاد میں ہیں۔ اسی لیے ہم ، دیگر بہت سے معاملات کی طرح،اس مسئلے پر بھی خلیجی ممالک اور دیگر اسلامی دنیا کے ممالک کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔"














