سیاست
3 منٹ پڑھنے
امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں اختلاف کے باعث کچھ نیٹو ممالک سے فوجیں ہٹا رہا ہے: رپورٹ
یہ واضح نہیں کہ مذاکرات کتنے آگے پہنچ چکے ہیں یا منصوبہ نافذ ہونے کی صورت میں کن مخصوص ممالک پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں اختلاف کے باعث کچھ نیٹو ممالک سے  فوجیں ہٹا رہا ہے: رپورٹ
فائل فوٹو: امریکہ یونان میں نیٹو کے شراکت داروں کے ساتھ فوجی مشقیں کر رہا ہے۔ / Reuters

اے بی سی نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایسے بعض نیٹو حلیفوں سے امریکی فوج کو ہٹانے یا ان کی جگہ تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے جنہیں ایران کی جنگ کے دوران غیر معاون سمجھا گیا۔

رپورٹ میں جمعرات کو ایک امریکی انتظامیہ کے عہدیدار نے کہا کہ امریکہ بعض نیٹو رکن ممالک میں اپنی عسکری موجودگی کم کرنے یا منتقل کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے، جنہیں حالیہ ایران کے ساتھ مسلح تنازع کے دوران اس کی کارروائیوں کی حمایت میں سست یا غیررضامندتصور کیا گیا۔

رپورٹ نے مزید کہا کہ عہدیدار نے کہا کہ یہ تجویز ایسی ملکوں سے امریکی افواج کو منتقل کرنے سے متعلق ہو گی جنہیں کم معاون سمجھا جاتا ہے، اُن ممالک کی طرف جہاں تنازع کے دوران زیادہ مدد فراہم کی گئی،

یہ واضح نہیں کہ مذاکرات کتنے آگے پہنچ چکے ہیں یا منصوبہ نافذ ہونے کی صورت میں کن مخصوص ممالک پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

اس غور و خوض کا تعلق یورپ میں مشترکہ فوجی اڈوں کے استعمال پر تنازع کے دوران پابندیوں کے سبب سینئر امریکی حکام کی تنقید سے ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے سوال اٹھایا کہ اگر آپریشنل رسائی محدود ہے تو حلیف ملکوں میں فوجی تعیناتیاں برقرار رکھنے کی کیا منطق ہے۔

حلیفوں کی حمایت کا مسئلہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُوٹے نے بھی اٹھایا، جنہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ رکن ممالک جزوی طور پر جنگ کی غیر متوقع نوعیت کی وجہ سے ابتدا میں ردِ عمل میں سست رہے ۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ یورپی حلیفوں نے بالآخر امریکی پاور پروجیکشن کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

رُوٹ نے نیٹو کی وسیع تر اسٹریٹجک اہمیت پر بھی زور دیا اور اس اتحاد کو نہ صرف یورپی سلامتی بلکہ امریکہ کے دفاع کے لیے بھی لازمی قرار دیا۔  نیٹو یقینی طور پر یورپیوں کا تحفظ کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی ریاستِ متحدہ امریکہ کا بھی تحفظ کرتا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کے تنازع کے دوران نیٹو کے ردِ عمل پر بار بار اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کو نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹ سے ملاقات کے بعد ایک ٹروتھ سوشل پوسٹ میں انہوں نے لکھا: "نیٹو وہ وقت ہمارے ساتھ نہیں تھا جب ہمیں ان کی ضرورت تھی، اور اگر ہمیں دوبارہ ضرورت ہوئی تو وہ ساتھ نہیں ہوں گے۔"

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے پہلے کہا کہ ٹرمپ کا خیال ہے کہ نیٹواس آزمائش میں ناکام رہا ہے" انہوں نے کہا، “یہ کافی افسوس ناک ہے کہ پچھلے چھ ہفتوں کے دوران نیٹو نے امریکی عوام سے منہ پھیر لیا، حالانکہ  اسی  اپنی دفاعی  فنڈ امریکی عوام ہی فراہم کرتے ہیں۔"

دریافت کیجیے
صدر اردوعان کی ٹرمپ اور علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ٹیلی کانفرنس
معاہدہ طے پانے کو ہے: ٹرمپ
مشرق وسطی میں جنگی حالات کے باوجود امسال عازمین حج کی تعداد ڈیڑہ ملین سے تجاوز کر گئی
ترکیہ قومی خفیہ سروس کا شام میں آپریشن: داعش کے 10 کارندے ترکیہ لائے گئے
27 ممالک بحرانی فنڈز تک رسائی کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں، رپورٹ
پاکستانی وزیر اعظم اسٹریٹیجک تعلقات کو مضبوطی دلانے کی غرض سے  چین کے دورے پر
روس کے زیر کنٹرول لوہانسک میں کالج اور ہاسٹل پر یوکرین کے حملے میں چار افراد ہلاک اور 35 زخمی: روس
ایتھنو اسپورٹس  فیسٹیول استنبول میں شروع ہو گیا
پاکستانی وزیر داخلہ کے امریکہ-ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پر تہران میں تازہ مذاکرات
نیٹو کے روٹے کا کہنا ہے کہ اتحاد مضبوط راہ پر ہے، ایک اتحادی پر زیادہ انحصار نہیں کرتا
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملہ،4 افراد ہلاک
امریکہ  نے تائیوان کے لیے 14 بلین ڈالر کے اسلحے کی فروخت روک دی
غزہ میں انسانی صورتحال تاحال بد ترین حالت میں ہے، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں
پاکستان نے کوششیں تیز کر دیں
ترکیہ: اردوعان۔ادریس ملاقات