امریکہ نے جنیوا میں روس اور چین کے وفود کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
امریکہ وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق رواں مہینے کے آغاز سے امریکہ اور روس کے درمیان طے شدہ اور جوہری اسلحے کی تنصیبات کو محدود کرنے پر مبنی آخری سمجھوتے کی معیاد بھی ختم ہو گئی ہے۔ معاہدے کے خاتمے کے بعد امریکہ نے جنیوا میں روسی اور چینی وفود کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔
انہوں نے نام کو پوشیدہ رکھنے کی شرط پر پیر کو جنیوا میں اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "آج میں نے روسی وفد سے ملاقات کی۔ کل ہم دیگر کے ساتھ ساتھ چینی وفد کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے"۔
امریکہ وزارت خارجہ کے اہلکار نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے 5 فروری کو 'نیو اسٹارٹ معاہدہ 'ختم ہونے کے بعد واشنگٹن میں روس اور چین کے ساتھ اوّلین 'تیاری' اجلاس کئے تھے لیکن جنیوا میں ہونے والی بات چیت زیادہ تفصیلی تھی۔
انہوں نے کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے برطانیہ اور فرانس سے بھی متعدد دفعہ بات چیت کی ہے۔
واضح رہے کہ جوہری ہتھیاروں کی تنصیب کو محدود کرنے سے متعلق واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان جاری آخری معاہدے کی میعاد بھی ختم ہو گئی ہے۔ اس دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو بھی احاطے میں لینے والے ایک نئے معاہدے کا مطالبہ کیا ہے۔
اگرچہ چین کا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ روس اور امریکہ کی نسبت واضح طور پر کم ہے لیکن حالیہ برسوں میں چین اس ذخیرے میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔
بیجنگ نے سہ فریقی معاہدے پر مذاکرات میں شمولیت کی درخواستوں کو اعلانیہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔
ایک غیر یقینی جوہری مستقبل
امریکہ کےنائب مشیر برائے اسلحہ کنٹرول 'کرسٹوفر یاؤ' نے جنیوا میں منعقدہ تخفیفِ اسلحہ کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدے میں سنگین خامیاں تھیں ۔ اس معاہدے نے چین کے جوہری ہتھیاروں میں بے مثال، قصدی ، تیز رفتار اور غیر شفاف اضافے کو نگاہ میں نہیں رکھا۔
اس کے جواب میں چین کے سفیر شن جیان نے کہا ہے کہ بیجنگ ،کسی بھی ملک کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کی کسی بھی دوڑ میں حصہ نہیں لے گا۔ چین کا جوہری ذخیرہ بڑے ترین جوہری ذخیرے والے ممالک کا ہم پلّہ نہیں ہے۔
شن جیان نے مزید کہا ہےکہ چین کا ، نام نہاد سہ فریقی مذاکرات میں حصہ لینا منصفانہ، معقول یا حقیقت پسندانہ' نہیں ہو گا۔
سینئر امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ ٹرمپ ، زیادہ بہترمعاہدے تک پہنچنے کے لئے ،کثیر الجہتی اسٹریٹجک اور پائیدار مذاکرات کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا ہے کہ "مباحث کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے 5 مستقل اراکین کے درمیان جاری رکھنا اگلا منطقی قدم ہو گا۔دو طرفہ یا کثیر طرفہ فارمیٹ تا حال ممکن ہیں ۔ ہم مذاکرات یا گفت و شند کے لئے اپنے آپ کو کسی مخصوص فارمیٹ کا پابند نہیں کریں گے"۔












