غّزہ جنگ
4 منٹ پڑھنے
سلامتی کونسل کی قرارداد دوبارہ امریکی ویٹو کی بھینٹ چڑھ گئی
چین، پاکستان، فرانس اور سلووینیا: واشنگٹن کے وٹو سے سلامتی کونسل کو غزہ میں نسل کشی کے سدّباب سے روک دیا ہے
سلامتی کونسل کی قرارداد دوبارہ امریکی ویٹو کی بھینٹ چڑھ گئی
The US vetoed resolutions in October 2023, December 2023, February 2024, and November 2024, while abstaining in votes on other draft resolutions. / AA

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے ، غزہ میں جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی پر مبنی  قرارداد کو ویٹو کرنے کی وجہ سے، امریکہ پر تنقید کی لیکن  واشنگٹن نے اس قرارداد کو جاری سفارتی کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

مذکورہ رائے شماری  15 رکنی کونسل کی، نومبر کے بعد سے غّزہ کی صورتحال پر، پہلی رائے شماری ہے۔ اسرائیل کے اہم اتحادی ملک 'امریکہ' نے  بدھ کے روز قتل و غارت کے خاتمے کی اپیل پر مبنی  ایک متن کو بھی روک دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے لئے  امریکہ کی سفیر ڈوروتھی شی نے بدھ کے روز کے 14 مثبت ووٹوں کے مقابلے میں 1 منفی ووٹ سے پہلے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ  "یہ قرارداد، زمینی حقائق کی عکاس جنگ بندی کے لیے، جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی اور حماس کی حوصلہ افزائی کرے  گی۔"

مسودہ قرارداد میں "غزہ میں ایسی  فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا جو تمام فریقین کے لئے محترم  ہو"۔

قرارداد  میں "حماس اور دیگر گروہوں کی زیرِ تحویل تمام یرغمالیوں کی فوری، باعزت اور غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔

قرارداد میں فلسطینی علاقے کی "تباہ کن انسانی صورتحال" کو اجاگر کیا گیا تھا اور  غزہ میں انسانی امداد کی رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم احمد نے کہا ہے کہ "یہ ویٹو نہ صرف اس کونسل کے ضمیر پر ایک اخلاقی دھبے کی طرح  ثبت رہے گا بلکہ  نسلوں تک ایک تقدیر ساز سیاسی روّیے کے طور بھی یاد رکھا جائے گا۔"

اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کونگ نے کہا ہے کہ "آج کی رائے شماری  کے نتیجے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا  ہے کہ غزہ جنگ کے خاتمے  میں کونسل کی ناکامی کی اصل وجہ  امریکی رکاوٹ ہے۔"

فلسطین مزاحمتی گروپ 'حماس' نے بھی کہا ہے کہ واشنگٹن کا ویٹو ،اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے لئے  غزہ میں نسل کشی جاری رکھنے کے، اجازت نامے  کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ ویٹو جنوری میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد واشنگٹن کا پہلا ویٹو ہے۔

فرانس نے بھی واشنگٹن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ویٹو نے کونسل کو اپنی ذمہ داری نبھانے سے روک دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر جیروم بونا فونٹ نے کہا ہے کہ "کونسل کو اپنی ذمہ داری نبھانے سے روکا گیا ہے باوجودیکہ  ہم میں سے زیادہ تر ایک ہی نقطہ نظر پر متفق ہیں۔"

مسودہ پیش کرنے والے ملک سلووینیا نے بھی امریکہ پر تنقید کی ہے۔

اقوام متحدہ کے لئے سلووینیا کے سفیر سیموئل زبوگار نے کہا ہے کہ "بس بہت ہو گیا۔" انہوں نے کہا ہے کہ "ہمارا مقصد کبھی بھی ویٹو کو اکسانا نہیں تھا۔"

سموئیل نے ، امریکہ کا نام لیے بغیر، کہا  ہےکہ ویٹو نے انہیں کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے فلسطینی سفیر ریاض منصور نے منگل کے روز کونسل سے کارروائی کرنے کی اپیل کی تھی۔

انہوں نے  کہا تھا کہ  " تاریخ ہم سب سے حساب پوچھے گی کہ ہم نے فلسطینی عوام کے خلاف جاری  اس جرم کو روکنے کے لیے  کتنا کام کیا "۔

اقوام متحدہ کے لئے اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے متن پر حملہ کر دیا اور  کہا ہے کہ "جس قرارداد پر رائے شماری کی گئی ہے وہ حماس کے لیے ایک تحفہ تھی اور اس سے دہشت گردی کو تقویت ملنے کا خطرہ تھا۔"

انہوں نے کہا ہے  کہ "ہم امریکہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ وہ صحیح جانب کھڑا رہا۔"

امریکہ نے اکتوبر 2023، دسمبر 2023، فروری 2024، اور نومبر 2024 کی قراردادوں کو ویٹو کیا اور دیگر مسودہ قراردادوں پر رائے شماری میں شریک ہی نہیں ہوا۔

دریافت کیجیے
اسرائیل نے 6 لبنانیوں کو ہلاک کر دیا
اسرائیلی فوج نے دو فلسطینیوں کو قتل کر دیا
لبنان کے متعدد علاقوں پر اسرائیلی حملے، 7 افراد ہلاک
غزہ میں تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک
اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تنازع سے ہتھیاروں پر پابندی لگ سکتی ہے — رپورٹ
اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون
اسرائیل نے غزہ میں ایک فلسطینی بچے کو اس کے والد کی گود میں قتل کر دیا
قابض اسرائیلیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں مسجد پر حملہ اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا
غزہ پر اسرائیلی حملے جاری،مزید 3 فلسطینی ہلاک
سروے کے مطابق نتن یاہو کی لیکود پارٹی کی حمایت ایک سال کی کم ترین سطح پر
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ: "مجھے رہا کیا جائے"
اسرائیل نے غزہ میں مزید آٹھ فلسطینیوں کو قتل کر دیا
36 ممالک کی اکثریت اسرائیل کے بارے میں منفی سوچ رکھتی ہے
غزّہ پر اسرائیلی حملے: متعدد فلسطینی زخمی
مسجد الاقصی میں عید الاضحی
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے سائے میں عید الاضحی: 9 فلسطینی شہید
ترکیہ اسرائیل کے خلاف آئی سی جے میں نسل کشی کے معاملے کا بڑا حمایتی ہے، جنوبی افریقہ
ملائیشیا غزہ فلوٹیلا کارکنوں سے بد سلوکی پر اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع گا
اسرائیلی فوج نے عید الضحیٰ کی خریداری کے دوران مغربی کنارے کے علاقوں کی دکانیں بند کر دیں
غزہ میں انسانی صورتحال تاحال بد ترین حالت میں ہے، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں