سیاست
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل نے روس کے ساتھ خفیہ مذاکرات کیے ہیں
اسرائیل نے ایران اور شام کے موضوع پر اسرائیل کے ساتھ خفیہ مذاکرات کئے ہیں: کان
اسرائیل نے روس کے ساتھ خفیہ مذاکرات کیے ہیں
Iran / TRT World

اسرائیل نے ایران اور شام کے بارے میں  روس کے ساتھ خفیہ مذاکرات کیےہیں۔

اسرائیل کے عوامی نشریاتی ادارے کان کی 2 جولائی کی  خبر کے مطابق اسرائیل نے ایران اور شام کے موضوع پر اسرائیل کے ساتھ خفیہ  مذاکرات کئے ہیں۔ مذاکرات، ماسکو کی طرف سے اسرائیل اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش  اور 24 جون کی جنگ بندی سے ایک ہفتہ بعد شروع ہوئے تھے ۔

رپورٹ میں ان مذاکرات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں لیکن اسرائیلی حکام کے،  ایران اور شام محیط، ایک جامع  سفارتی حل کی  تلاش میں ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔

 اس دوران، اسرائیل کے، ایران کے موضوع پر،  امریکہ کے ساتھ ایک وسیع تر معاہدے کی کوششوں میں ہونے کا بھی ذکر کیا جا  رہا ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اگلے ہفتے واشنگٹن میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران اس مسئلے کو اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل، ایران کے حوالے سے ایک ایسا فریم ورک پیش کرنے کی امید رکھتا ہے جو لبنان کے ساتھ پہلے سے طے شدہ معاہدے سے مشابہہ ہو۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر فضائی حملے کیے  جو 24 جون کو ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد روک دیے گئے تھے۔ اس وقت، روس  وزارت خارجہ نے اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کی، انہیں "قطعی  طور پرناقابل قبول" قرار دیا اور خبردار کیا تھا کہ "اس اشتعال انگیزی کے تمام نتائج کی ذمہ دار  اسرائیلی قیادت ہو گی۔"

تاہم، اسرائیلی اقدامات کی سخت مذمت کے باوجود، ماسکو نے ، تہران کو سیاسی حمایت سے آگے کچھ فراہم کر نے  کا کوئی اشارہ نہیں دیا تھا باوجودیکہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ موجود ہے۔

جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حکام نے "نارملائزیشن معاہدوں"،جنہیں عام طور پر ابراہیم معاہدے کہا جاتا ہے، کی توسیع پر بھی بات چیت کی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اس وسیع تر علاقائی حکمت عملی کے تحت شام کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات بھی ہو سکتے ہیں۔

روس نے ایک طرف اسرائیل کے ساتھ گرمجوش تعلقات قائم کر کے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ مضبوط اقتصادی اور فوجی تعلقات  قائم کر کے،مشرق وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے ایک نازک توازن برقرار رکھا  ہواہے ۔

ایرانی جوہری اور فوجی مقامات پر حالیہ اسرائیلی حملے کہ جن میں سینئر جرنیل اور سائنسدان ہلاک کر دیئے گئے اور تہران کے جوابی ڈرون اور میزائل حملے، دونوں ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات ہونے کی وجہ سے ماسکو کے لیے ایک پیچیدہ سفارتی امتحان بن گئے ہیں۔

تاہم، یہ صورتحال روس کے لیے ایک موقع بھی پیدا کر سکتی ہے کہ وہ اس تصادم کو ختم کرنے میں ایک طاقتور ثالث کے طور پر ابھرے۔ ماسکو کے کچھ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تصادم پر توجہ مرکوز کرنے سے یوکرین کی جنگ سے عالمی توجہ ہٹ سکتی ہے اور کیف کے لیے مغربی حمایت میں کمزوری سے روس کے مفادات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

دریافت کیجیے
ٹرمپ: ہم ایردوان کے ساتھ ایف-35 کے معاملے پر بات کریں گے
ترک وزیر خارجہ فیدان: یورپی سلامتی کو یورپی یونین تک محدود نہیں کیا جا سکتا
فیدان  کے انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل امریکی سینیٹرز سے مذاکرات
یورپ انقرہ میں نیٹو اجلاس کو ٹرمپ کو اجتماعی دفاع میں اپنی دلچسپی دکھانے کا ،مظاہرہ کرے گا: جرمنی
انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل پوتن اور ٹرمپ کی یوکرین کے معاملے پر بات چیت
اسرائیل حکومت اپنی بگڑتی ساکھ کو بچانے کے لیے نئے دشمن کی متلاشی ہے، ترک وزیر خارجہ
روس اور امریکہ پر  عظیم جوہری طاقتیں ہونے کے ناطے عالمی سلامتی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، پوتن
ایردوان اور میلونی نے انقرہ نیٹو سمٹ سے قبل دفاعی روابط پر بات چیت کی
یوکرین سے ایران تک: نیٹو انقرہ سمٹ میں زیر غور آنے والے ممکنہ موضوعات کا جائزہ
نیٹو سیکریٹری جنرل: "ترکیہ میثاق کی سب سے طاقتور افواج میں سے ایک ہے"
امریکہ نے اسرائیل اور لبنان امن  معاہدے کے فریم کی تفصیلات جاری کر دیں
میلونی: ٹرمپ کے تبصروں سے مجھے ' سخت حیرانگی' ہوئی ہے
امریکہ اور ایران نے سوئٹزرلینڈ میں اعلی سطحی مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، ثالث ممالک
وٹکوف اور عراقچی اسرائیل کے لبنان پر قبضے کے دوران سویٹزرلینڈ میں مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں
ممکن ہے کہ نیتن یاہو ٹرمپ کے ایران امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دے: امریکی انٹیلی جنس
امریکہ اور ایران کے درمیان مقرر کردہ مذاکرات میں تاخیر
امریکہ-ایران معاہدے سے متعلق تیکنیکی مسائل تا حال حل نہیں ہوئے: ترک وزیر خارجہ
2022 کا استنبول یوکرین معاہدہ مغربی مداخلت کی وجہ سے بگڑا، روس کا دعوٰی
امریکہ-ایران امن معاہدے کے باوجوداسرائیلی فوج لبنان میں طویل المدت قبضے کی تیاری کر رہی ہے — رپورٹ
لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے 'لازمی شرط' ہے: وزیر خارجہ عراقچی