فلسطین کی وزیر خارجہ وارسن آغابیکیان شاہین نے کہا ہے کہ اسرائیلی قبضے اور غیر قانونی بستیوں کے حوالے سے عالمی روّیوں، خاص طور پر یورپ کے روّیوں میں، ایک نمایاں تبدیلی آئی ہے لیکن اب اس ہمدردی کو عملی اقدامات میں بدلنا ضروری ہے۔
انادولو ایجنسی کے لئے انٹرویو میں شاہین نے کہا ہے کہ "اسرائیل کی تنہائی میں اور فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی میں بین الاقوامی سطح پر اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن اب محض بیانات کافی نہیں ہیں۔ اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ مزید بیانات نہیں عملی فیصلے ہیں۔"
یورپ کے لہجے میں تبدیلی مگر عمل کی کمی
شاہین نے کہا ہے کہ اسپین اور جرمنی جیسے ممالک نے اسرائیلی قبضے، غیر قانونی بستیوں اور آباد کاروں کے تشدد پر تنقید میں زیادہ واضح موقف اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہالینڈ جیسے دیگر ممالک بھی اسی سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ یہ تبدیلی "معنی خیز" لیکن ابھی بھی "مطلوبہ سطح سے کم" ہے۔ اس رجحان کو تیزی سے ٹھوس زمینی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
شاہین نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنی پالیسیاں اس لئے جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ اسے اپنے کئے کا کوئی خمیازہ نہیں بھگتنا پڑ رہا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہےکہ وہ پابندیوں اور قانونی کارروائیوں سمیت احتساب کی جانب قدم بڑھائے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف جاری کردہ وارنٹِ گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ان فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونا بین الاقوامی قانون کے نفاذ کے معاملے میں ایک بڑی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ شاہین نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ" جب تک اسرائیل کوئی حقیقی قیمت چُکانے کا پابند نہیں کیا جاتا وہ امن کی کوششوں سے دُور رہے گا"۔
"الحاق پہلے ہی ہو رہا ہے"
شاہین نے خبردار کیا ہے کہ "بستیوں میں توسیع، غیر قانونی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں اور فلسطینیوں پر سخت پابندیوں کی وجہ سے مقبوضہ مغربی کنارے میں حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہےکہ الحاق اب کوئی مستقبل کا منظرنامہ نہیں رہا بلکہ ایک درپیش حقیقت بن چُکا ہے۔ موجودہ حالات اس حقیقت کو بتدریج ٹھوس بنا رہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی امیدوں کو کمزور کر رہے ہیں"۔
غزہ کا سنگین بحران
غزہ کی انسانی صورتحال کو "تباہ کن" قرار دیتے ہوئے شاہین نے کہا ہے کہ امداد اب بھی ناکافی ہے اور صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے محصولاتی آمدنی پر اسرائیلی قبضے کے نتیجے میں مغربی کنارے کے معاشی بحران کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا ہے کہ اس بحران کی وجہ سے بہت سے خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
شاہین نے مزید کہا ہےکہ غزہ کے مستقبل کے نظم و نسق کو ایک متحدہ فلسطینی فریم ورک کے تحت مربوط کرنے کے لیے کام جاری ہے۔حصّے بخرے ہونے سے بحالی کا عمل مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔
ترکیہ کی حمایت
ترکیہ کی بھرپور سیاسی و انسانی حمایت کی تعریف کرتے ہوئے شاہین نے کہا ہےکہ انقرہ کی امداد اور وکالت "زمینی حالات پر حقیقی اثر ڈال رہی ہے۔ فلسطین۔ ترکیہ تعلقات بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر فلسطینی حقوق کے ساتھ ترکیہ کی دیرینہ حمایت پر استوار ہیں۔
شاہین نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی پر ترک حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہے کہ یہ حمایت "موجودہ حقائق کے مقابل فلسطینیوں کی ثابت قدم رہنے کی صلاحیت کو تقویت دے رہی ہے۔"ق اب مستقبل کا منظر نامہ نہیں رہا بلکہ ایک جاری حقیقت ہے۔ "آج ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ اس حقیقت کا تدریجی مضبوط ہونا ہے،" انہوں نے کہا، اور خبردار کیا کہ یہ فلسطینی ریاست کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
غزہ کا بحران گہرا
غزہ کے حوالے سے شاہین نے انسانی حالات کو "تباہ کن" قرار دیا، بتایا کہ امداد ابھی بھی ناکافی ہے اور صحت کا نظام منہدم ہونے کے قریب ہے۔
انہوں نے مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے اقتصادی بحران کی بھی نشاندہی کی، جس میں جزوی سبب اسرائیل کی طرف سے ٹیکس آمدنی روکنا ہے، جس سے کئی خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں رہتے۔
شاہین نے کہا کہ غزہ کی مستقبل کی حکمرانی کو ایک متحد فلسطینی ڈھانچے کے تحت مربوط کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور خبردار کیا کہ اگر تقسیم ہوئی تو بحالی اور استحکام مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔
ترکی کی حمایت
شاہین نے ترکی کی مضبوط سیاسی اور انسانی مدد کی تعریف کی اور کہا کہ انقرہ کی امداد اور وکالت نے "زمینی سطح پر حقیقی اثر" ڈالا ہے۔
شاہین نے کہا کہ فلسطینی-ترک تعلقات بین الاقوامی فورمز میں ترکی کی طویل المدتی حمایت کی بنیاد پر قائم ہیں۔
انہوں نے ترک حکومت اور عوام کا فلسطینیوں کے ساتھ جاری یکجہتی کے لیے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ "فلسطینیوں کی موجودہ حقیقت کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے کی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے۔"













