صدر زیلنسکی کا استنبول پہنچنے پر ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گولیر نے استقبال کیا۔
زیلنسکی نے امریکی کمپنی ایکس (X) کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا:"ہم اپنی ٹیم کے ہمراہ استنبول پہنچ گئے ہیں۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ہماری اہم ملاقاتیں ہوں گی۔"
زیلنسکی نے مزید کہا کہ وہ یوکرین کی سلامتی کو مضبوط بنانے، ترکیہ کے ساتھ دوطرفہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے اور ٹھوس سفارتی مواقع پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بحیرہ اسود میں سمندری نقل و حمل سے متعلق کئی اہم معاملات موجود ہیں۔
زیلنسکی نے بتایا کہ استنبول میں ان کی فینر کے یونانی آرتھوڈوکس پیٹریارک برتھولومیو سے بھی ملاقات طے ہے۔ اس موقع پر انہوں نے یوکرین کا ساتھ دینے والے تمام افراد کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اس سے قبل ترکیہ کے صدارتی دفتر کے شعبۂ اطلاعات کے سربراہ برہان الدین دوران نے بتایا تھا کہ صدر رجب طیب ایردوان اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ترکیہ اور یوکرین کے دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ممکنہ اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ روس یوکرین جنگ، بحیرہ اسود کی سیکیورٹی کی صورتحال اور دیگر اہم علاقائی و بین الاقوامی امور بھی زیرِ بحث آئیں گے۔




















