سوڈان میں انسانی امداد کے اہم اداروں کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں لاکھوں انسان دن میں صرف ایک وقت کے کھانے پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں اور خوراک کا سنگین ہوتا ہوا یہ بحران ملک کو قحط کی طرف دھکیل رہا ہے۔
سوڈانی فوج اور پیرا ملٹری دستوں کے درمیان، تیسرے سال میں داخل ہونے والی، جنگ نے ملک میں زراعت کو تباہ کر دیا ، لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا اور دنیا کے بدترین انسانی ہنگامی حالات میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، شمالی دارفور اور جنوبی کردوفان سمیت جنگ سے شدید متاثرہ علاقوں میں خاندان کئی کئی دن تک کھانا نہیں کھاتے اور زندہ رہنے کے لیے درختوں کے پتے اور جانوروں کا چارہ کھانے پر مجبور ہیں۔
قحط کی وارننگ میں مستقل اضافہ
انسانی امدادی اداروں کے مطابق یہ بحران محض لڑائی کا نتیجہ نہیں ہے۔ زرعی فارموں اور مارکیٹوں کی قصداً تباہی نے اس میں مزید شدت پیدا کی ہے۔اس صورتحال نے بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کئے جانے کی سوچ کو تقویت دی ہے ۔
واضح رہے کہ سوڈان کی تقریباً دو تہائی آبادی یعنی 2 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد اس وقت شدید سطح کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ملک کے بعض حصوں میں قحط کی تصدیق ہو چکی ہے۔ بڑھتے ہوئے شواہد کے باوجود سوڈانی حکومت قحط کی موجودگی سے انکاری ہے اور حریف فوج اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کے حالات کی ذمہ داری قبول کرنے سے۔
سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ: عورتیں اور بچے
غذائی بحران عورتوں اور بچوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہا ہے۔ وہ گھرانے جن کی سربراہ عورتیں ہیں ان کے غذائی کمی کا شکار ہونے کا امکان تین گنا زیادہ ہے۔ علاوہ ازیں عورتوں کو خوراک یا پانی کے حصول کے دوران تشدّد کے خطرے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عطیات کی کمی نے امدادی کاموں کو محدود کر دیا اور فلاحی کچن بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں جس کے باعث امدادی کوششیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔












