دنیا
2 منٹ پڑھنے
ایرانی فضائی کمپنیوں کی مدد کرنے والے پابندیوں کا سامنا کریں گے:امریکہ
امریکی خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ پابندیوں کا شکار ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے والے اداروں کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
ایرانی فضائی کمپنیوں کی مدد کرنے والے پابندیوں کا سامنا کریں گے:امریکہ
امریکہ / Reuters

امریکی خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ پابندیوں کا شکار ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے والے اداروں کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

ایکس پر ایک پوسٹ میں  بیسنٹ نے اس انتباہ کو جاری جنگ کے دوران ایران پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی مہم کا حصہ قرار دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ پابندیوں کا شکار ایرانی ایئرلائنز کے ساتھ کاروبار کرنا امریکی پابندیوں کے خطرے سے دوچار کرتا ہے۔

بیسنٹ نے غیر ملکی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں کہ ان کے دائرہ اختیار میں موجود کمپنیاں ان طیاروں کو خدمات فراہم نہ کریں۔ 

اس میں جیٹ فیول، کیٹرنگ، لینڈنگ فیس، یا   مرمت  کی فراہمی شامل ہے۔ 

بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ہماری وزارت ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالے گی اور ایسے کسی بھی تیسرے فریق کے خلاف کارروائی سے نہیں ہچکچائے گی جو ایرانی اداروں کو  سہولت فراہم کرے یا کاروبار کرے۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد کچھ تجارتی پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ 

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے اعلان کیا کہ ہفتے کے روز تہران سے کئی پروازیں روانہ ہوئیں۔ 

ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے پہلے فضائی حدود کے کچھ حصوں کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا، خاص طور پر یہ بتایا تھا کہ ملک کے مشرقی حصے میں بین الاقوامی ٹرانزٹ راستے اب کھلے ہیں۔ 

امریکی امور خزانہ نے حال ہی میں "اکنامک فیوری" کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا، جو ایران کے خلاف تیل کی تجارت سے منسلک عالمی اثاثوں کو نشانہ بنا کر ادارے کی مالی طاقت استعمال کرتا ہے۔ 

اس اقدام کے تحت امریکہ نے چینی بینکوں کو خطوط بھیجے جن میں دھمکی دی گئی کہ اگر وہ ایرانی تیل کے لین دین کو آسان بناتے رہے تو ان پر ثانوی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ 

بیسنٹ نے دوبارہ یقین دلایا کہ امریکہ ایرانی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی زیادہ  سے زیادہ دباؤ کی پالیسی برقرار رکھے گا۔

دریافت کیجیے
بولیویا کی فوجی چھاونی میں دھماکے  میں 10 سے زیادہ افراد ہلاک
ووکس ویگن نے دنیا بھر میں مزید 50,000 ملازمتیں ختم کر دیں
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں
مصر: سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
نیپال۔چین سیلاب کی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد 1,130 تک پہنچ گئی، تقریباً 4,500 افراد لاپتہ
شام: شیبانی۔راسموسین ملاقات
یمن: داعش کے ایک سرغنہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے
امریکہ: اٹارنی نے 17 سالہ لڑکی کو قتل کا قصوروار قرار دے دیا
روس کے کیف اور آس پاس کے علاقوں پر بڑے پیمانے پر میزائل حملے میں چار افراد ہلاک
نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی
یونان-اسرائیل کے درمیان 3٫6 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ
گرینڈ کینن میں اچانک شدت کے سیلاب کے بعد کم از کم 20 افراد لاپتہ