دی نیو یارک ٹائمز اور رائٹڑز کے مطابق 28 فروری کو ایران کے جنوبی حصے میں واقع شجرہ طیبہ پرائمری اسکول پر ہونے والا ایک دقیق فضائی حملہ امریکی فوجی کارروائی معلوم ہوتا ہے۔
جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی ہے یہ حملہ بد ترین شہری جانی نقصان کے واقعات میں سے ایک ہے۔
اگرچہ کسی فریق نے ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم سیٹلائٹ تصاویر اور توثیق شدہ فوٹیج ، یہ امریکی کارستانی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے ابتدا میں "تحقیقات" کی پوزیشن اختیار کی، مگر سینئر عہدیداروں نے اعتراف کیا ہے کہ شواہد زیادہ تر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ جنوبی محوری آپریشنز سے کسی امریکی میزائل حملے کا نشانہ تھا۔
ایرانی طبی حکام اور سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ اس واقع میں کم از کم 175 افراد ہلاک ہوئے جن میں خاص طور پر سات سے بارہ سال کی عمر کی بچیاں شامل تھیں ۔
"Picture-Perfect" دقیق ضربیں
ایک شواہد کا مجموعہ جو The New York Times نے اکٹھا کیا ہے اور ، جس میں Planet Labs کی نئی سیٹلائٹ تصاویر بھی شامل ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسکول کی عمارت کو ایک دقیق حملے نے شدید نقصان پہنچایا، جو پاس میں واقع اور اسلامی پاسداران انقلاب کے زیرِ انتظام نیول بیس پر حملوں کے ساتھ بیک وقت ہوا۔
فوٹیج کے مطابق متعدد دقیق حملوں نے پاسداران انقلاب کی کم از کم چھ عمارتوں کو تباہ کر دیا۔
نیول بیس کے اندر چار ڈھانچے زمین بوس ہو گئے، جبکہ دو دیگر کی چھت کے درمیانی حصوں پر اثر ات ظاہر کرتے ہیں یہ دقیق رہنمائی والے ہتھیاروں کی علامتیں ہیں۔
و سابقہ امریکی فضائیہ کے ہدف بندی کے ماہر ویس جے برائنٹ نے اخبار کو ایک انٹرویو میں فوٹیج پر اپنے جائزے پیش کیے ا اور نتیجہ اخذ کیا کہ تمام عمارات، جن میں اسکول بھی شامل ہے، "picture-perfect" ٹارگٹ اسٹرائکس ہیں۔
برائنٹ نے ممکنہ ترین وضاحت کے طور پر "target misidentification" کی تجویز دی ہے—یعنی ان افواج نے اس جگہ پر حملہ کیا بغیر یہ جانے کہ وہاں شہری موجود ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی طرف سے شائع کردہ تاریخی سیٹلائٹ مناظر دکھاتے ہیں کہ 2013 میں یہ عمارت IRGC کے اڈے کا حصہ تھی، مگر ستمبر 2016 تک اسے حصوں میں تقسیم کر کے اسکول کے طور پر استعمال میں لایا گیا تھا۔
تحقیقات اور بین الاقوامی قانون
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے تسلیم کیا ہے کہ فوج اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ہیگسیتھ نے بدھ کے روز ایک نیوز بریفنگ میں کہا، "ہم، بالکل، کبھی شہری اہداف کو نشانہ نہیں بناتے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں اور اس کی تفتیش کر رہے ہیں۔"
اسی طرح، سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ جان بوجھ کر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بنائے گا ۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے شفاف تحقیق کا مطالبہ کیا ہے، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ "ذمہ داری ان افواج پر ہے جنہوں نے حملہ کیا۔"
آکسفورڈ یونیورسٹی کے بین الاقوامی جنگی قوانین کے ماہر جانیہ ڈِل نے The New York Times کے ساتھ ایک انٹرویو میں زور دیا کہ حملہ آوروں پر لازم ہے کہ وہ کسی ہدف کی "حیثیت کی تصدیق" کریں۔
بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت، جان بوجھ کر کسی اسکول یا شہری عمارت پر حملہ کرنا جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔
منگل کو ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر جنازے کی تصاویر نشر کی گئیں جن میں چھوٹے تابوت قطار در قطار دکھائی دیتے ہیں جنہیں سوگواروں کے ہجوم کے درمیان سے گزارا جا رہا تھا۔
تحقیقات جاری ہیں اور امریکی عہدیدار اس امکان کو خارج نہیں کر رہے کہ نئے شواہد کسی اور فریق کی جانب اشارہ کر سکتے ہیں، تاہم موجودہ شواہد کا مسبوق — پرواز کے راستوں سے لے کر دقیق رہنمائی والے ہدف کے نمونوں تک — مضبوطی سے اشارہ کرتا ہے کہ مناب میں ہونے والی اس المیہ کی ذمہ داری ایک امریکی میزائل پر عا ئد ہوتی ہے۔







