سیاست
2 منٹ پڑھنے
امریکہ-ایران امن معاہدے کے باوجوداسرائیلی فوج لبنان میں طویل المدت قبضے کی تیاری کر رہی ہے — رپورٹ
وج لبنان میں 'تمام ممکنہ منظرناموں' کے لیے تیار ہے، حالانکہ واشنگٹن اور تہران جمعہ کو سوئٹرزلینڈ میں اس معاہدے پر دستخط کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
امریکہ-ایران امن معاہدے کے باوجوداسرائیلی فوج لبنان میں طویل المدت قبضے کی تیاری کر رہی ہے — رپورٹ
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی افواج لبنان میں طویل مدتی قبضے کی تیاری کر رہی ہیں۔ (تصویر: فائل) / AP

اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے ایک معاہدے کے باوجود، جس نے متعدد محاذوں پر جنگ ختم کر دی تھی، اسرائیلی فوج نے لبنان میں طویل مدتی مداخلت کی تیاری کر لی ہے۔

اسرائیل کے سرکاری ٹیلی ویژن KAN نے نام ظاہر نہ کرنے والے اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اگر اسرائیل کی سیاسی قیادت کی ہدایات ملیں  تو   فوج'طویل عرصے تک لبنان میں رہنے کے لیے تیار ہے' ۔

ذرائع نے مزید کہا کہ فوج لبنان میں 'تمام ممکنہ منظرناموں' کے لیے تیار ہے، حالانکہ واشنگٹن اور تہران جمعہ کو سوئٹرزلینڈ میں اس معاہدے پر دستخط کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔

مکمل انخلا کے مطالبات

یہ رپورٹ اُن چند گھنٹوں بعد سامنے آئی جب لبنانی صدر جوزف عون نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین مفاہمت کی یادداشت میں خطے میں عسکری کشیدگی کو روکنے کے وعدے شامل ہیں، جن میں لبنان بھی شامل ہے۔

منگل کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کا 'ایک لازمی حصہ' ہے اور اس میں اسرائیلی افواج کا لبنانی علاقے سے انخلا بھی شامل ہوگا۔

حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل 2 مارچ سے لبنان پر جارحیت کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے اور ایک ملین سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

اسرائیل جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر دہائیوں سے اور بعض پر 2023 اور 2024 کے درمیان ہونے والی پچھلی جنگ کے بعد سے قابض ہے۔

موجودہ مہم کے دوران، اسرائیلی افواج نے لبنانی علاقے میں پیش قدمی کی اور فوجی دستے ملک میں 10 کلومیٹر سے زیادہ اندر تک داخل ہو گئے۔

دریافت کیجیے