عراق کے سکیورٹی محکمہ اطلاعات کے سربراہ سعد معن نے تصدیق کی ہے کہ عراقی سرزمین پر لگائے گئے اور سعودی عرب میں ایک آئل پائپ لائن پر حملے کے لیے استعمال کیے جانے والے ڈرون لانچنگ پلیٹ فارم کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
عراق سرکاری خبر رساں ادارے'آئی این اے'کے مطابق ایک سرکاری بیان میں سعد معن نے کہا ہے کہ "انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں پر مشتمل ایک ٹاسک فورس کی بھرپور کوششوں کے نتیجے میں لانچنگ پلیٹ فارم کے عراقی سرزمین پر موجود مقام کا تعین کرکے اسے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔"
سعد معن نے کہا ہے کہ فرانزک ماہرین، تکنیکی دستاویزات اور تفصیلی جرائم تحقیقات سمیت تفصیلی تحقیقات جاری ہیں ۔
انہوں نے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں "صرف لانچنگ پلیٹ فارم قبضے میں لینے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ حملے میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے وسیع پیمانے پر فیلڈ اور انٹیلی جنس سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔"
سعد معن نے زور دیا کہ بغداد اور ریاض کے درمیان اہم نوعیت کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی معلومات کے تبادلے کے لیے حکومت کی مختلف سطحوں پر فعال رابطہ کاری ذرائع موجود ہیں۔
سفارتی رابطہ کاری
عراقی فوج کے ترجمان صباح النعمان نے ہفتے کے روز اپنے ایک سابقہ بیان میں کہا تھا کہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے سعودی اہداف کے خلاف سرحد پار حملوں میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آئی این اے کی خبر کے مطابق عراق کےوزیر اعظم علی فالح الزیدی نے مشترکہ سرحد کے قریب مزید ڈرون لانچنگ پلیٹ فارموں کی موجودگی کے بعد ایران کی جانب سے مشترکہ تحقیقات کرانے کی درخواست بھی منظور کر لی ہے۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کے جمعہ کے روز عراق سے اڑائے گئے متعدد ڈرونوں کے ریاض اور مدینہ سے گزرتی اسٹریٹجک مشرقی۔مغربی آئل پائپ لائن کے بعض حصوں کو نشانہ بنائے جانے کا اعلان کےرنے کے بعد ہوئی ہے۔ حملوں کے نتیجے میں کچھ افراد زخمی ہوگئےتھے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔
سعودی عرب وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ریاض نے اس مرحلے پر فوجی جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزارت کے مطابق یہ فیصلہ عراق کے وزیر اعظم کی براہِ راست درخواست پر کیا گیا ہے۔درخواست میں بغداد کو، عراقی سرزمین کے سعودی عرب اور خطے کے دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے بچانےکے لیے سکیورٹی اقدامات کرنے کی مہلت دینے کی استدعا پر مبنی تھی۔





















