دنیا
3 منٹ پڑھنے
فرانس: ٹرمپ۔پوتن ملاقات میں یوکرین کو بھی شامل کیا جائے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان متوقع ملاقات میں یوکرینی اور یورپی نمائندوں کو بھی شامل ہونا چاہیے: صدر ایمانوئل میکرون
فرانس: ٹرمپ۔پوتن ملاقات میں یوکرین کو بھی شامل کیا جائے
French President Emmanuel Macron shakes hands with Croatian Prime Minister Andrej Plenkovic. / Reuters
21 اکتوبر 2025

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ بوداپست میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان متوقع ملاقات میں یوکرینی اور یورپی نمائندوں کو بھی شامل ہونا چاہیے۔

پیر کے روز سلووینیا میں یورپی یونین کے بحیرہ روم  ممالک کے سربراہی اجلاس  منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس  سے خطاب میں میکرون نے کہا ہے کہ یہ ملاقات  "ایک بہت اچھی بات" ہے کیونکہ "صدور اپنے دو طرفہ ایجنڈے پر بات کر سکتے ہیں۔"

میکرون نے زور دے کر کہا ہے کہ  "جب وہ  یوکرین کے مستقبل پر بات کر رہے ہوں تو یوکرینیوں کو میز پر ہونا چاہیے۔ جب وہ یورپیوں کی سلامتی پر اثر انداز ہونے والے معاملات پر بات کریں گے تو یورپیوں کو بھی میز پر ہونا چاہیے۔ جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ  بس یہی ہے"۔

میکرون نے یوکرین کے لیے فرانس کی حمایت کا اعادہ کیا اور  جنگ کے دوران یوکرین کی مزاحمت کو سراہا ہے۔

لندن اجلاس

انہوں نے کہا ہے کہ "یوکرین ایک طرف جدّت  اختیار کر رہا اور پیداوار دے رہا ہے تو دوسری طرف  نہایت بہادری کے ساتھ مزاحمت بھی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ جمعہ کے روز بعض شرکاء کی بنفس نفیس اور بعض کی بذریعہ ویڈیو کانفرنس  شرکت سے "رضامندوں کا اتحاد" نامی اجلاس منعقدہ ہو گا۔اجلاس میں یوکرین کے صدر ولودو میر زلنسکی بھی شرکت کریں گے۔    اس شکل میں ہم پیش رفت جاری رکھیں گے"۔

زلنسکی نے اس بات پر  بھی زور دیا ہے کہ یوکرین کے حوالے سے کوئی بھی امن معاہدہ "پائیدار  اور دیرپا" ہونا چاہیے۔ معاہدے کو،  بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونا اور طویل مدتی استحکام کا ضامن ہونا چاہیے۔  اس کے علاوہ اور کسی امن کا وجود نہیں ہے اوراس موضوع پر  یورپیوں کا موقف  ہمیشہ دو ٹوک رہا ہے "۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے روس کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لئے زلنسکی پر دباو ڈالا اور کہا تھا کہ  دونوں فریقین کو موجودہ محاذوں پر لڑائی روک دینی چاہیے۔ تاہم زلنسکی نے کہا تھا کہ  یوکرین ماسکو کو کوئی  رعایت  نہیں دے گا۔

گذشتہ جمعرات کو ایک  ٹیلی فونک ملاقات میں پوتن اور ٹرمپ نے ایک اور بلمشافہ ملاقات کے امکان پر بات کی اور اس بات پر اتفاق کیا  تھا کہ دونوں فریقین کے نمائندے فوری طور پر ایک سربراہی اجلاس کی تیاری شروع کریں گے۔ سربراہان نے اجلاس کے انعقاد کے لئے  بوداپست کو موزوں  مقام قرار دیا تھا۔

دریافت کیجیے
اسلام آباد میں جوہری مول تول: امریکہ کا مطالبہ 20 سال ایران کی پیشکش 5 سال
پاکستان کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے :جے ڈی وینس
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت غیر مستحکم ہوجائے گی:آسیان
بن گویر کا مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا: میں اس جگہ کا مالک ہوں
جنگ بندی کے بعد روس-یوکرین جھڑپوں کی اطلاع
ہنگری:اوربان کا 16 سالہ اقتدار ختم ،ماگیار کو واضح برتری
روس۔یوکرین ایسٹر فائربندی ختم ہو گئی
سوڈان: لاکھوں انسان صرف ایک وقت کھانا کھا رہے ہیں
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ہونے پر ٹرمپ ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں
ایران اور امریک اسلام آباد میں مذاکرات کے ختم ہونے سے قبل معاہدے کے بہت قریب تھے: عراقچی
ٹرمپ نے پوپ لیو پر بھی چڑھائی کر دی: مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیئے
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی، تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
ترکیہ: پانچواں انطالیہ ڈپلومیسی فورم عالمی رہنماوں کی میزبانی کے لئے تیار
ترک پراسیکیوٹروں نے نیتن یاہو کے خلاف فردِ جرم تیار کر لی
اسرائیل حزبِ اختلاف: نیتن یاہو ناکام رہے ہیں