حکومتِ جرمنی ملک کی خفیہ ایجنسیوں میں بڑے اصلاحی اقدامات پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ انہیں خفیہ کارروائیاں کرنے اور غیر ملکی خطرات کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے وسیع نئے اختیارات دیے جا سکیں۔
یہ اصلاحات، جن پر کئی ماہ سے بات ہو رہی ہے، سخت قواعد میں نرمی لائیں گی جنہوں نے عام طور پر جرمنی کی خفیہ خدمات کو معلومات اکٹھا کرنے اور رپورٹس پہنچانے تک محدود رکھا تھا۔
چانسلر فریڈرِک مرز کی اتحادی حکومت کا کہنا ہے کہ غیر ملکی دشمن قوتوں کے علاوہ دہشت گرد گروہوں اور سائبر مجرموں سے نمٹنے کے لیے زیادہ بااختیار خفیہ اداروں کی ضرورت ہے۔
جرمن حکام الزام عائد کرتے ہیں کہ ماسکو ملک کے خلاف تباہ کاری، جاسوسی اور گمراہ کن معلومات پر مشتمل 'ہائبرڈ' مہم چلا رہا ہے، جبکہ جرمنی روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کا ایک بڑا فوجی حمایتی ہے۔
پارلیمان کی انٹیلی جنس نگرانی کمیٹی کے چیئرمین مارک ہینرِک مین نے اے ایف پی کوبتایا کہ"ہم نہ صرف روس کے ساتھ بلکہ دیگر فریقین کے ساتھ بھی ایک ہائبرڈ تنازعے کے بیچ میں ہیں۔"
ان کا کہنا تھا کہ جرمنی کا محتاط رویہ اسے 'پیچھے چھوڑ چکا' ہے اور وہ یورپی سلامتی میں مناسب طور پر حصہ ڈالنے کے قابل نہیں رہا۔
ہینرِک مین نے تبدیلیوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے متعدد حالیہ واقعات کی طرف اشارہ کیا، جن میں پچھلے ہفتے لیپزگ ایئرپورٹ پر ایک دھماکہ خیز مواد کے حامل ڈراون کی نشاندہی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ایسے مخالفین کا سامنا کر رہے ہیں جو بالکل بھی قواعد کا احترام نہیں کرتے۔ انہیں قانون و نظم کی کوئی پرواہ نہیں۔ ان کا مقصد محض مغرب، یورپی یونین اور جرمنی کو دبانا نہیں، بلکہ مثالی طور پر انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ہے۔"
کوئی ہلاکت خیز کارروائیاں نہیں
دہائیوں سے، جرمنی نے اپنے بیرونی خفیہ ادارے BND اور گھریلو جاسوسی ایجنسی BfV کو سخت پابندیوں کے تحت رکھا ہے جو عام طور پر سی آئی اے یا موساد کی طرح خفیہ اور خطرناک کارروائیوں کو خارج کرتی ہیں۔
یہ قواعد جزوی طور پر نازی آمریت اور مشرقی جرمنی کے کمیونسٹ دور میں کیے گئے وحشیانہ تجاوزات کے باعث عائد کیے گئے تھے، اور ساتھ ہی جرمن معاشرے میں رازداری کے حقوق کا مضبوط احساس بھی اس کی وجہ تھا۔
کنگز کالج لندن میں سیکیورٹی اسٹڈیز کے پروفیسر پیٹر نیومن نے اے ایف پی کو بتایا کہ"جرمن خفیہ ادارے درحقیقت، حالیہ دور تک بنیادی طور پر معلومات یکجا کرنے کی خدمات تک محدود تھے۔"
انہوں نے کہا کہ ان کے پاس معلومات جمع کرنے اور پالیسی سازوں کی رہنمائی کرنے کے بعض اختیارات تھے، مگر اس معلومات کے ساتھ وہ کیا کر سکتے ہیں اس پر بہت پابندیاں تھیں۔
روس-یوکرین جنگ کے بعد جرمنی نے اپنی فوج کی ازسرنو تشکیل کے لیے ریکارڈ رقوم خرچ کی ہیں، اور ہینرِک مین اور دیگر حکام کا کہنا ہے کہ جاسوسی خدمات کی توسیع بھی اسی سلسلے میں ضروری ہے۔
اس تجویز کے تحت جاسوسی ایجنسیوں کو اپنی طرف سے سائبر حملے کرنے کی صلاحیت مل سکتی ہے، مثلاً دشمن عناصر کے زیرِ استعمال غیر ملکی آئی ٹی نظام کو معطل کرنا یا ادائیگی کے بہاؤ کو روکنا۔
BND اور BfV دونوں کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنے اور تجزیہ کرنے کے اختیارات بھی بڑھائے جا رہے ہیں، جن میں وسیع ڈیٹا سیٹس کو اسکین کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال اور مخصوص ڈیٹا کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کی اجازت شامل ہے۔
700 سے زائد صفحات پر مشتمل یہ قانونی پیکج آن لائن نگرانی اور ٹریکنگ جیسے متنازعہ اقدامات کے اختیارات کو بھی منظم کرتا ہے۔
غیر معمولی حالات میں BND کو غیر ملکی تخریب کاری کے مشنز انجام دینے کی اجازت مل سکتی ہے، البتہ قتل اور دیگر جان لیوا کارروائیاں جرمن قانون کے تحت سختی سے ممنوع رہیں گی۔
خفیہ سروس
وزیر داخلہ الیگزنڈر ڈوبرنڈٹ نے روزنامہ بیلڈ کو بتایا"ہم اپنی خفیہ ایجنسیوں کو حقیقی خفیہ خدمات میں تبدیل کر رہے ہیں۔"
ڈوبرنڈٹ نے کہا"ہم ہائبرڈ خطرے کے منظرنامے اور غیر ملکی طاقتوں کی جانب سے تباہ کاری، جاسوسی، سائبر حملوں اور خفیہ کارروائیوں کے ذریعے عدم استحکام کی کوششوں کے برخلاف ایک نیا فریم ورک بنا رہے ہیں،" یہ اصلاحات جرمنی کو 'دنیا بھر میں ہمارے شراکت دار ایجنسیوں کے برابر' رکھیں گی۔
نیومن کا کہنا تھا کہ جرمنی کے بہت سے یورپی اتحادیوں، جیسے برطانیہ، فرانس یا نیدرلینڈز میں خفیہ خدمات کے پاس پہلے ہی ’نمایاں طور پر زیادہ اختیارات‘ ہیں۔
نیومن نے کہا کہ جرمنی کی خفیہ کارروائیوں پر سخت حد بندی نے بعض اوقات اتحادی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کو مشکل بنایا اور مشترکہ آپریشن معدوم رہے۔
لہذا"اب وقت آ گیا ہے کہ جرمن خفیہ اداروں کو دیگر یورپی جمہوریوں جیسی ہی اختیارات حاصل ہوں۔"
گرینز کے رکن پارلیمان کانسٹنٹن وون نوتز، جو انٹیلی جنس نگرانی کمیٹی کے نائب چیئرمین ہیں، نے کہا کہ 'نئے اور مضبوط اختیارات موجودہ چیلنجنگ سیکیورٹی ماحول کے پیشِ نظر بنیادی طور پر مناسب ہیں'۔
تاہم وون نوتز کا کہنا تھا کہ موجودہ مسودہ قانون نگرانی کے خود مختار اداروں کو مضبوط بنانے میں ناکام رہتا ہے اور یہ جرمنی کے آئین میں خفیہ سروس کے کسی بھی طرح کے پولیس اختیارات پر پابندی کی خلاف ورزی کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔
سول رائٹس سوسائٹی نے بھی کہا ہے کہ نئے ڈیجیٹل نگرانی کے اختیارات 'بنیادی حقوق میں وسیع پیمانے کی مداخلت' کریں گے۔
ہینرِک مین نے تاہم موجودہ خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے بڑھائے گئے اختیارات کا دفاع کیا اور یہ دلیل دی کہ جرمنی کے قانونی تحفظات اور نگرانی کا مطلب ہے کہ 'ہمارے پاس دنیا میں سب سے زیادہ جانچ پڑتال کی گئی خفیہ ایجنسیاں ہیں'۔


















