سان دیاگو کی مسلم آبادی نے سان دیاگو اسلامک سینٹر میں مہلک فائرنگ کے بعد اتحاد اور ثابت قدمی کی اپیلیں کی ہیں، جبکہ حکام اس حملے کی تفتیش کو نفرت انگیز جرم کے طور پر کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ پیر کے روز دو مسلح افراد نے مسجد کے کمپلیکس پر فائرنگ کی تھی جس میں تین افراد ہلاک ہوئے اور برادری میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
حکام نے کہا کہ ملزمان وسیع پیمانے پر نفرت کی تحریک سے متاثر تھے اور آن لائن ذرائع سے انتہا پسند بنائے گئے تھے۔
حملے نے مسلم طبقے میں سخت صدمہ پیدا کیا ہے، جو سان دیاگو میٹرو پولیٹن علاقے کی آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہے، اور اس نے خطرات کے خلاف مضبوط اجتماعی ردِ عمل کو بھی جنم دیا ہے۔
ہزاروں افراد شمعیں روشن کرنے کے لیے یکجا ہوئے، کیلیفورنیا اور اس سے باہر سے بھی لوگوں نے اس اجتماع میں شرکت کی۔
برادری کے رہنماؤں نے ثابت قدمی اور یکجہتی پر زور دیا، اور کہا کہ حملے کے خلاف ردِ عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم خوفزدہ نہیں ہیں۔
عبدالله طہیری، صدر مسلم لیڈرشپ کونسل آف سان ڈیاگو نے کہا کہ''ہم غم کریں گے، ہم شفا پائیں گے، اور مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔''
حکام نے کہا کہ ہنگامی پروٹوکول اور مربوط ردِ عمل کے طریقہ کار کی بدولت کئی جانیں بچ گئیں، حملے کے وقت احاطے میں 140 سے زائد بچے اور عملے کے ارکان موجود تھے۔
اسلامک سینٹر، جو عبادت اور تعلیم کا مرکزی مرکز ہے، جزوی طور پر دوبارہ کھل گیا ہے، روزانہ کی نمازیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں جبکہ دیگر تنصیبات بند ہیں۔
بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان کارروائی کی اپیلیں
حملے نے امریکہ میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا اور مسلم مخالف تقاریر کے بارے میں تشویش کو بھی شدت دی ہے۔
کچھ دن بعد بالٹی مور میں ہونے والی ایک بڑے مسلم کانفرنس میں، جس میں 25,000 سے زائد افراد نے شرکت کی، مقررین نے برادری سے کہا کہ غم کو عمل میں تبدیل کریں۔
کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ''ہم انہیں تعزیت سے بڑھ کر کچھ دینے کے پابند ہیں؛ ہمیں انہیں عزم دینا ہوگا۔''
رہنماؤں نے منظم ہونے اور شہری حقوق کے دفاع سمیت شہری شمولیت بڑھانے کا مطالبہ کیا، اور حکام سے کہا کہ وہ اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقریر اور تشدد پر کارروائی کریں۔
حکام نے بتایا کہ ملزمان، جن کی عمریں 17 اور 18 بتائی گئی ہیں، تحقیقات کے دوران برآمد ہونے والی تحریروں میں انتہا پسند خیالات کا اظہار کرتے نظر آئے۔
حکام نے ملزمان سے منسلک درجنوں ہتھیار بھی قبضے میں لے لیے۔
سان ڈیاگو کے میئر ٹاڈ گلوریا نے کہا کہ اس فائرنگ کی تفتیش سفید فام بالادستی کے نفرت انگیز جرم کے طور پر کی جا رہی ہے۔
حملے کے باوجود، برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ ردِ عمل نے ان کے حقوق اور اداروں کے تحفظ کے لیے یکجہتی اور عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔







