دنیا
3 منٹ پڑھنے
سان دیاگو کی مسلم کمیونٹی گزشتہ دنوں مسلم فوبیا حملے کے بعد اتحاد و یکجہتی کا پیغام
پیر کے روز دو مسلح افراد نے مسجد کے کمپلیکس پر فائرنگ کی  تھی جس میں تین افراد ہلاک ہوئے اور برادری میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
سان دیاگو کی مسلم کمیونٹی گزشتہ دنوں مسلم فوبیا حملے کے بعد اتحاد و یکجہتی کا پیغام
سان ڈیاگو میں مسجد پر مہلک حملے کے بعد مسلم کمیونٹی یکجہتی کے لیے متحد ہو گئی، جبکہ رہنماؤں نے بڑھتی ہوئی نفرت کے خلاف ثابت قدمی اور کارروائی پر زور دیا۔ / AP

سان دیاگو کی مسلم آبادی نے سان دیاگو اسلامک سینٹر میں مہلک فائرنگ کے بعد اتحاد اور ثابت قدمی کی اپیلیں کی ہیں، جبکہ حکام اس حملے کی تفتیش کو نفرت انگیز جرم کے طور پر کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پیر کے روز دو مسلح افراد نے مسجد کے کمپلیکس پر فائرنگ کی  تھی جس میں تین افراد ہلاک ہوئے اور برادری میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

حکام نے کہا کہ ملزمان وسیع پیمانے پر نفرت کی تحریک سے متاثر تھے اور آن لائن ذرائع سے انتہا پسند بنائے گئے تھے۔

حملے نے مسلم طبقے میں سخت صدمہ پیدا کیا ہے، جو سان دیاگو میٹرو پولیٹن علاقے کی آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہے، اور اس نے خطرات کے خلاف مضبوط اجتماعی ردِ عمل کو بھی جنم دیا ہے۔

ہزاروں افراد شمعیں روشن کرنے کے لیے یکجا  ہوئے، کیلیفورنیا اور اس سے باہر سے بھی  لوگوں نے اس اجتماع میں شرکت کی۔

برادری کے رہنماؤں نے ثابت قدمی اور یکجہتی پر زور دیا، اور کہا کہ حملے کے خلاف ردِ عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم خوفزدہ نہیں ہیں۔

عبدالله طہیری، صدر مسلم لیڈرشپ کونسل آف سان ڈیاگو نے کہا کہ''ہم غم کریں گے، ہم شفا پائیں گے، اور مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔''

حکام نے کہا کہ ہنگامی پروٹوکول اور مربوط ردِ عمل کے طریقہ کار کی بدولت  کئی جانیں  بچ گئیں، حملے کے وقت احاطے میں 140 سے زائد بچے اور عملے کے ارکان  موجود تھے۔

اسلامک سینٹر، جو عبادت اور تعلیم کا مرکزی مرکز ہے، جزوی طور پر دوبارہ کھل گیا ہے، روزانہ کی نمازیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں جبکہ دیگر تنصیبات  بند ہیں۔

بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان کارروائی کی اپیلیں

حملے نے امریکہ میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا اور مسلم مخالف تقاریر کے بارے میں تشویش کو بھی شدت دی ہے۔

کچھ دن بعد بالٹی مور میں ہونے والی ایک بڑے مسلم کانفرنس میں، جس میں 25,000 سے زائد افراد نے شرکت کی، مقررین نے برادری سے کہا کہ غم کو عمل میں تبدیل کریں۔

کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز کے  ایک عہدیدار نے کہا کہ ''ہم انہیں تعزیت سے بڑھ کر کچھ دینے کے پابند ہیں؛ ہمیں انہیں عزم دینا ہوگا۔''

 رہنماؤں نے منظم ہونے اور شہری حقوق کے دفاع سمیت شہری شمولیت بڑھانے کا مطالبہ کیا، اور حکام سے کہا کہ وہ اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقریر اور تشدد پر کارروائی کریں۔

حکام نے بتایا کہ ملزمان، جن کی عمریں 17 اور 18 بتائی گئی ہیں، تحقیقات کے دوران برآمد ہونے والی تحریروں میں انتہا پسند خیالات کا اظہار کرتے نظر آئے۔

حکام نے ملزمان سے منسلک درجنوں ہتھیار بھی قبضے میں لے لیے۔

سان ڈیاگو کے میئر ٹاڈ گلوریا نے کہا کہ اس فائرنگ کی تفتیش سفید فام بالادستی کے نفرت انگیز جرم کے طور پر کی جا رہی ہے۔

حملے کے باوجود، برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ ردِ عمل نے ان کے حقوق اور اداروں کے تحفظ کے لیے یکجہتی اور عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔

دریافت کیجیے
27 ممالک بحرانی فنڈز تک رسائی کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں، رپورٹ
پاکستانی وزیر اعظم اسٹریٹیجک تعلقات کو مضبوطی دلانے کی غرض سے  چین کے دورے پر
روس کے زیر کنٹرول لوہانسک میں کالج اور ہاسٹل پر یوکرین کے حملے میں چار افراد ہلاک اور 35 زخمی: روس
ایتھنو اسپورٹس  فیسٹیول استنبول میں شروع ہو گیا
پاکستانی وزیر داخلہ کے امریکہ-ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پر تہران میں تازہ مذاکرات
نیٹو کے روٹے کا کہنا ہے کہ اتحاد مضبوط راہ پر ہے، ایک اتحادی پر زیادہ انحصار نہیں کرتا
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملہ،4 افراد ہلاک
امریکہ  نے تائیوان کے لیے 14 بلین ڈالر کے اسلحے کی فروخت روک دی
غزہ میں انسانی صورتحال تاحال بد ترین حالت میں ہے، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں
پاکستان نے کوششیں تیز کر دیں
ترکیہ: اردوعان۔ادریس ملاقات
امریکی کانگریس میں ایک منٹ کی خاموشی
حزب اللہ کے 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوجی قوتوں پر 24 حملے
مسلّح تنازعات میں شہریوں کا تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے: ترکیہ
امریکہ نے فرانسیسکا البانیس کو پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیا