15 جولائی کی بغاوت کی کوشش کو 10 سال گزر چکے ہیں۔ اس ناکام بغاوت کی کوشش کے بعد جہاں فتح اللہ گولن دہشت گرد تنظیم (FETÖ) کو ریاست کے تمام اداروں سے پاک کیا گیا، وہیں ترکیہ نے سیکیورٹی سے لے کر سفارت کاری تک کئی شعبوں میں اہم تبدیلیاں دیکھیں۔
اداروں کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور انضمام کے میدان میں اثرات، روک تھام کا سیکیورٹی تصور، کثیر الجہتی سفارت کاری، بحرانی خطوں میں اختیار کیا گیا فعال کردار، بین الاقوامی ثالثی کی کوششیں، علاقائی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششیں اور "صدیِ ترکیہ" کے وژن کے مطابق تشکیل پانے والا خارجہ پالیسی کا رخ...
ہماری ویڈیو سیریز وہ ناکام رہےکی اس قسط میں، ہم 15 جولائی کے بعد تبدیل ہوتی ہوئی ترک خارجہ پالیسی اور ترکیہ کے مستقبل کے وژن پر سیٹا فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر فار فارن پالیسی ریسرچ، پروفیسر ڈاکٹر مراد یشیل تاش کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں۔














