جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ وہ 2030 میں اپنی مدتِ صدارت ختم ہونے سے قبل زمانہ جنگ میں جنوبی کوریا مسلّح افواج کا آپریشنل کنٹرول امریکہ سے واپس لینا چاہتے ہیں۔
یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق لی نے منگل کے روز کابینہ اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ مذکورہ منتقلی حکومت کے اصل منصوبے کے مطابق ان کے دورِ صدارت کے دوران ہی مکمل ہونی چاہیے۔
لی نے حکام کو جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے حصول کے منصوبوں کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا ہےکہ جنوبی کوریا کی اپنی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی کوششیں امریکہ کے ساتھ اس کے اتحاد کو کمزور کرنے کی بجائے مزید مضبوط بنانے والی ہونی چاہئیں۔
واضح رہے کہ جنوبی کوریا نے 1950 سے 1953 کی جنگِ کوریاکے دوران زمانہ جنگ میں جنوبی کوریا مسلّح افواج کا آپریشنل کنٹرول امریکہ کی زیرِ قیادت اقوام متحدہ کمان کے حوالے کیا تھا۔
بعد ازاں 1978 میں یہ کنٹرول جنوبی کوریا۔امریکہ مشترکہ افواج کی کمان کے اختیار میں آ گیا۔ سیئول نے 1994 میں زمانہ امن کا آپریشنل کنٹرول واپس حاصل کر لیا تھا تاہم زمانہ جنگ کا آپریشنل کنٹرول اب بھی امریکی کمان کے تحت ہے۔
لی نے یہ بیانات، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کرنے کی ہدایت دینے سے متعلقہ بیان کے بعد جاری کئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ مشقوں کو محدود کرنے کا مقصد شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کو فروغ دینا ہے۔
امریکہ اور جنوبی کوریا نے پیر کے روز اپنی سالانہ' الچی فریڈم شیلڈ' فوجی مشقوں کا آغاز کیا تھا۔
لی نے کہا ہے کہ " اتحاد مضبوط ہونےکی صورت میں سلامتی کی بنیاد بھی مزید مضبوط ہو جائے گی"۔
انہوں نے مزید کہا ہےکہ جیسے جیسے جنوبی کوریا اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرے گا، ایک اتحادی کی حیثیت سے اس کی اہمیت بھی بڑھے گی۔














