امریکہ کے نائب صدرجے ڈی وینس نے کہا ہےکہ واشنگٹن اور ایران کے درمیان معاہدے پر "ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا" ۔
صحافیوں سے گفتگو میں وینس نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور ایران کے درمیان معاہدے پر "ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا"، تاہم فریقین اس کے قریب پہنچ چکے ہیں"۔اور یہ کہ " امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کو نمایاں حد تک پیچھے دھکیلنے کی پوزیشن میں ہے"۔
متعدد امریکی اور مشرقِ وسطیٰ ذرائع ابلاغ مطابق امریکہ اور ایران نے جمعرات کے روز جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی بحالی پر اتفاق کر لیا ہے تاہم یہ معاہدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری سے مشروط ہے۔
وینس نے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات میں افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور یورینیم افزودگی کے معاملے پر چند رکاوٹیں موجود ہیں۔یہ کہنا مشکل ہے کہ صدر ٹرمپ کب مفاہمتی یادداشت پر دستخط کریں گے، یا کریں گے بھی کہ نہیں۔ ہم متن کی بعض شقوں پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔"
وینس نے مزید کہا ہے کہ"میں اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ معاہدہ ہو جائے گا، لیکن اس وقت میں کافی پُرامید ہوں۔"
انہوں نے کہا ہےکہ ایرانی فریق "کم از کم اب تک نیک نیتی کے ساتھ" مذاکرات کر رہا ہے، اور دونوں ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں، تاہم ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر کے معاملے پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔
وینس نے وضاحت کی ہے کہ"جوہری معاملات میں، زیادہ افزودہ ذخائر اور افزودگی کے مسئلے سے متعلق چند نکات باقی ہیں۔ امید ہے کہ ہم پیش رفت جاری رکھیں گے اور صدر ایسی پوزیشن میں ہوں گے کہ معاہدے کی منظوری دے سکیں، لیکن ابھی کچھ حتمی نہیں ہوا۔"
ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے امریکہ۔اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے ہی کہا تھا کہ اس جنگ کا ایک بڑا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
تاہم وینس نے جنگ کے نتائج پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ"ہم نہ صرف اس صدر کی مدت کے دوران بلکہ طویل مدت کے لیے بھی ایران کے جوہری پروگرام کو نمایاں طور پر پیچھے دھکیلنے کی پوزیشن میں ہیں۔"
مفاہمتی یادداشت
امریکی ذرائع نے اس سے قبل ایکسیئس کی اس خبر کی تصدیق کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، تاہم ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ حل طلب رہے گا اور اس پر مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔
خبر کے مطابق 60 روزہ معاہدے کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت آزاد ہوگی، کسی قسم کی فیس یا ہراسانی نہیں ہوگی اور ایران 30 دن کے اندر تمام بارودی سرنگیں ہٹانے کا پابند ہوگا۔
اس کے بدلے امریکہ، ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی کو اس حد تک ختم کرے گا جس حد تک تجارتی بحری آمد و رفت بحال ہوگی۔
ایکسیئس کے مطابق، مفاہمتی یادداشت میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی یقین دہانی بھی شامل ہوگی۔ ابتدائی موضوعات میں سے ایک یہ ہوگا کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کیسے ختم کرے گا۔
تاہم ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے تہران کے مذاکرات کاروں کے قریبی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ متن ابھی حتمی نہیں ہوا اور اگر معاہدہ طے پا گیا تو ثالث ملک 'پاکستان' کو مطلع کیا جائے گا۔
مقامی ایرانی میڈیا کے مطابق، کوئی بھی معاہدہ صرف ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلے سے مکمل نہیں ہوگا بلکہ اسے تہران کی جانب سے اعلان کیے جانے کے بعد ہی حتمی سمجھا جائے گا۔











