امریکہ کے وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی طرف سے، قرضے کی لاگت میں کمی کے لیے، کوششوں کے وعدوں کے باوجود، طویل مدتی امریکی ٹریژری بانڈوں کی پیداوار ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں وسیع پیمانے پر مندی دیکھی جا رہی ہے۔
اسی دوران آبنائے ہرمز میں جاری امریکہ۔ایران کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ وزارتِ خزانہ نے 30 سالہ ٹریژری بانڈوں کی شرحِ سود گزشتہ 20 برس کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچنے کے بعد سرکاری بانڈوں کی واپسی کو کم از کم دوگنا کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
اس اعلان کے بعد ابتدا میں شرحِ سود میں کمی آئی، تاہم مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے اس اقدام کے ممکنہ اثرات پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ کار اب بھی اس اقدام کو بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے اور حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر قرضوں کے اجرا جیسے گہرے اقتصادی مسائل کا ایک عارضی حل قرار دے رہے ہیں، جس کے بعد شرحِ سود دوبارہ بڑھ گئی ہے۔
کیون وارش کی سربراہی میں امریکی مرکزی بینک کی مستقبل کی شرحِ سود پالیسی کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کا محتاط رجحان برقرار ہے۔
اس وقت مالیاتی پالیسی کی سمت کے بارے میں زیادہ واضح رہنمائی کے لیے مستقبل قریب میں متوقع جیکسن ہول اقتصادی سمپوزیم کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پائیدار اقتصادی بحالی کے لیے ساختی مالیاتی استحکام اور بجٹ خسارے میں کمی ضروری ہوگی۔


















