دنیا
2 منٹ پڑھنے
ملائیشیا: مسجدِ اقصیٰ کو یہودی رنگ دینے کی ہر کوشش قابلِ نفرت ہے
مسجدِ اقصیٰ کو یہودی رنگ دینے کی ہر کوشش قابلِ نفرت اور اس مقدّس مقام کی بے حرمتی کے مترادف ہے: ملائیشیا وزارتِ خارجہ
ملائیشیا: مسجدِ اقصیٰ کو یہودی رنگ دینے کی ہر کوشش قابلِ نفرت ہے
[فائل] 14 مئی 2026 کو مسجدِ اقصیٰ کے احاطے کے ساتھ دیوارِ گریہ کے پلازہ پر ایک بڑا اسرائیلی پرچم۔ / Reuters Archive

ملائیشیا نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں واقع مسجدِ اقصیٰ پر غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حالیہ دھاوے اور مقدس اسلامی مقام کے اندر اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذّمت کی اور اسے سنگین اشتعال انگیزی اور عبادت گاہ کے تقدس کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ملائیشیا وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کو یہودی رنگ دینے کی ہر کوشش قابلِ نفرت اور اس مقدّس مقام کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔

غیر قانونی اسرائیلی آبادکار بروز اتوار پولیس کی زیرِ حفاظت  مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہوئے۔ مسجد  کے صحنوں میں اشتعال انگیز رسومات انجام دیں اور اسرائیلی پرچم لہرائے۔

وزارت نے کہا ہے کہ آبادکاریہ اقدامات اسرائیل کی پشت پناہی میں کر رہے ہیں اور ان کا مقصد زمینی حقائق کے ساتھ ساتھ مسجدِ اقصیٰ کی ثقافتی، تاریخی اور مذہبی شناخت کو تبدیل کرنا ہے۔

وزارت کے مطابق"ایسے اقدامات ناقابلِ قبول  اشتعال انگیزی ہیں  اور بیت المقدّس میں مقدس اسلامی مقامات پر نگرانی کے کردار کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ جب دشمنی اور جارحیت سب کے سامنے جاری ہو تو بین الاقوامی برادری خاموش نہیں رہ سکتی۔"

ملائیشیا نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا  ہےکہ وہ جاری خلاف ورزیوں کو روکنے اور اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں۔

ملائیشیا نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اور، 1967 سے پہلے کی سرحدوں  کے اندر اور مشرقی بیت المقدّس  کے دارالحکومت والی، ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ 2003 سے اسرائیلی پولیس یکطرفہ طور پر آبادکاروں کو جمعہ اور ہفتہ کے علاوہ ہر روز صبح اور دوپہر کے وقت  مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دیتی چلی آ  رہی ہے۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل، مسجدِ اقصیٰ سمیت پورے مقبوضہ مشرقی بیت المقدّس کو یہودی رنگ دینے کی کوششوں اور شہر کی عرب و اسلامی شناخت کو مٹانے کی مہم میں تیزی لا رہا ہے۔

فلسطینی، مشرقی بیت المقدّس کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت سمجھتےاور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بین الاقوامی قراردادیں 1967 میں اسرائیل کے شہر پر قبضے یا 1980 میں اس کے الحاق کو تسلیم نہیں کرتیں۔

دریافت کیجیے
ہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
استنبول میں کانیہ ویسٹ کا شاندار شو
امریکہ کا مشرقی بحر الکاہل میں نارکو کشتی پر حملہ، 3 افراد ہلاک
اسرائیل کا جنوبی لبنان پر حملہ، ایک ہی خاندان کے 9 افراد ہلاک
پی ایس جی کی فتح کا جشن تشدد میں بدل گیا،متعدد گرفتاریاں
لبنان سے اسرائَیل پر حملے،نیتین یاہو نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا
جنوبی روس میں یوکرینی ڈراونز کا ایک بندرگاہ اور ایک تیل کے ڈپو پر حملہ
اسرائیل نے لبنان سے انخلاء کے مطالبے کو پینٹاگون میں مسترد کر دیا
ترک صدر نے فتح استنبول کی 573 ویں سالگرہ مناتے ہوئے سلطان محمد دوئم کو یاد کیا
فتح استنبول:تاریخ کی سمت بدلنے والی فتح
غزّہ پر اسرائیلی حملے: متعدد فلسطینی زخمی
لبنان: اسرائیل، یونسیکو کے زیرِ تحفظ، تاریخی مقمات پر حملے کر رہا ہے
معاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہمیں، لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کی ریکارڈ تعداد پر گہری تشویش ہے: اقوام متحدہ
امریکی فوج کا مشرقی پیسیفک میں ایک جہاز پر حملہ، 2 افراد ہلاک