یوکرین کے مشرقی حصے میں روس کے زیرِ قبضہ علاقے 'ڈونیٹسک' میں آج بروز بدھ ایک مسافر بس پر ڈرون حملے کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے ہیں۔
کریملن کے حمایت یافتہ علاقائی سربراہ 'دینیس پوشیلین' نے کہا ہے کہ ڈرون نے روس کے زیرِ قبضہ علاقے کریمیا میں ماسکو سے سمفیروپول جاتی ایک مسافر بس کو نشانہ بنایا ہے۔
روسی حکام نے اس واقعے کو شہریوں پر دانستہ حملہ قرار دیا ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق روس تحقیقاتی کمیٹی نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دے کر فوجداری مقدمہ درج کر لیا ہے۔
حملہ ایسے وقت میں ہوا ہےکہ جب روس اور یوکرین کے درمیان ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور دونوں ممالک نے حالیہ دنوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ڈرون جنگ میں شدت
روس نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے رات بھر میں 354 ڈرون تباہ یا ناکارہ کئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس جنگ میں فضائی محاذ تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
یہ تازہ حملہ منگل کے روز کیف پر روس کے بھاری میزائل اور ڈرون حملوں کے بعدکیا گیا ہے ۔ منگل کے حملوں کے بارے میں ماسکو کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی قبل ازیں روس کے زیرِ قبضہ علاقے 'لوہانسک' میں واقع ایک ہاسٹل کی عمارت پر کئے گئے حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہےکہ روس کی جانب سے کسی بھی وقت نئے حملے شروع ہو سکتے ہیں۔ جنگ میں دُور مار ڈرون حملے مسلسل زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں جس کے باعث تنازعے میں مزید شدّت آنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔













